• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 148149

    عنوان: کیا بیوٹی پارلر کا کام کرنا درست ہے؟

    سوال: کیا بیوٹی پارلر کا کام کرنا درست ہے؟ اگر eye brows (آنکھوں کی بھوئیں) نہ بنائیں صرف چہرہ وغیرہ بنائیں۔ اور یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ کچھ خواتین میک اَپ کروانے بھی آتی ہیں اور بال اسٹائل بھی بنواتی ہیں، لیکن اگر کام کرنے والی شرعی زندگی گذارنا چاہتی ہیں تو کیا وہ گنہگار ہوں گی؟ کیونکہ جو خواتین تیار ہونے آتیں ہیں وہ پردہ تو نہیں کرتیں ان کا سجنا سنورنا غیر مرد دیکھتے ہیں، تو کیا ان کا میک اَپ کرنے والی گنہگار ہوں گی اور پارلر کا سارا کام ٹھیک نہیں؟

    جواب نمبر: 148149

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 445-710/sn=7/1438

    بھنویں اگر فطری حالت پر ہوں تو تراش کر انھیں باریک کرنا، اسی طرح سر کے بالوں میں اس طرح تراش خراش کرنا کہ بال مردوں کے یا فاسقہ عورتوں کے بالوں کے مشابہ ہوجائیں، نیز رخساروں کے روئیں اکھیڑنا یہ امور شرعاً جائز نہیں ہیں، اسی طرح اگر عورتیں عذر (حیض یا نفاس) کی حالت میں نہیں ہیں تو ان کے لیے اس طرح کے ”میک اپ“ کا استعمال کرنا جو وضو وغسل کے دوران کھال تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو شرعاً جائز نہیں ہے، ان کے علاوہ زینت کے حوالے سے اور بھی بعض امور ناجائز ہیں، بیوٹی پالر میں یہ امور انجام دینا بہرحال ناجائز ہے؛ البتہ اگر کوئی عورت یہ اور اس طرح کے دیگر ناجائز امور سے بچ کر کوئی بیوٹی پارلر کا کام کرے تو فی نفسہ گنجائش ہوگی؛ لیکن بہتر یہ بھی نہیں ہے؛ کیوں کہ عورتوں کے حق میں مردوں کے بالمقابل بناوٴ سنگار کی گنجائش اگرچہ زیادہ رکھی گئی ہے؛ لیکن اس میں ”غلو“ بہرحال ناپسندیدہ ہے، عام طور پر بیوٹی پارلر کا کام درحقیقت اس غلو اور اسراف میں تعاون کرنا ہے جس کا ناپسندیدہ ہونا ظاہر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند