• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 146063

    عنوان: سود کا رِفاہ عام میں استعمال کرنا؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں؛ ۱)سود کے پیسے سے مسجد کا وضو خانہ یا پیشاب گھر بنانا کیسا ہے ؟اگر کوئی مسجد کی جگہ میں سود کے پیسے سے وضو خانہ بنادے تو کیا کیا جائے ؟ (۲)کیا عام راستوں میں سود کا پیسہ لگایا جا سکتا ہے ؟بینو توجرو۔محمد جاوید رامپور روڑکی

    جواب نمبر: 146063

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 154-116/H=3/1438

     

    (۱) سود جو سرکاری بینک سے حاصل ہوا ہو اس کو وضوء خانہ مسجد کے بنانے میں لگانا جائز نہیں ہے اگر کسی نے لگا دیا ہو تو اسے چاہیے کہ جتنی رقم لگائی ہے اتنی رقم اپنے پاس سے غرباء فقراء مساکین محتاجوں کو اس نیت سے دیدے کہ مسجد کے وضو خانہ کا معاملہ و مسئلہ بالکل پاک صاف رہے۔

    (۲) عام راستوں میں بھی لگانا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند