• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 14518

    عنوان:

    افغانستان میں بعض بینک بطور قرض حسنہ لوگوں سے پیسہ جمع کرتے ہیں او رچند مہینے کے بعد قرعہ اندازی کرکے اور غیر معین شرکاء کو علی قولہم بطور ہبہ پیسہ دیتے ہیں۔ کیا یہ کل قرض جر نفعا فہو ربوا میں داخل ہے؟

    سوال:

    افغانستان میں بعض بینک بطور قرض حسنہ لوگوں سے پیسہ جمع کرتے ہیں او رچند مہینے کے بعد قرعہ اندازی کرکے اور غیر معین شرکاء کو علی قولہم بطور ہبہ پیسہ دیتے ہیں۔ کیا یہ کل قرض جر نفعا فہو ربوا میں داخل ہے؟

    جواب نمبر: 14518

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1574=1249/ھ

     

     کل قرض جر نفعًا فھو ربوا میں داخل ہے، محض عنوان (ہبہ) حلت کے لیے کافی نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند