• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 12593

    عنوان:

    میں نے 1999میں اپنے بھائی کے لڑکے کو جب وہ تین دن کا (اپنی ماں کے کہنے پر جب وہ باحیات تھیں) گود لیا تھا، کیوں کہ 1990میں میرے شادی ہونے کے بعد سے میرے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔میں نے اس لڑکے کے والدکی جگہ پر اپنا نام لکھوایا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ میرے بھائی اور بھابھی کواس پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔ نیز میرے اس لڑکے کی عمر دس سال ہوچکی ہے اور اب تک اس کو اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے۔سچائی کو ظاہر کرنے سے سب کو بہت تکلیف ہوگی۔برائے کرم اس بارے میں ہماری رہنمائی فرماویں۔

    سوال:

    میں نے 1999میں اپنے بھائی کے لڑکے کو جب وہ تین دن کا (اپنی ماں کے کہنے پر جب وہ باحیات تھیں) گود لیا تھا، کیوں کہ 1990میں میرے شادی ہونے کے بعد سے میرے کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔میں نے اس لڑکے کے والدکی جگہ پر اپنا نام لکھوایا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ میرے بھائی اور بھابھی کواس پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔ نیز میرے اس لڑکے کی عمر دس سال ہوچکی ہے اور اب تک اس کو اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے۔سچائی کو ظاہر کرنے سے سب کو بہت تکلیف ہوگی۔برائے کرم اس بارے میں ہماری رہنمائی فرماویں۔

    جواب نمبر: 12593

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 909=765/د

     

    والد کی جگہ اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا لکھوانا چاہیے۔ باپ کے علاوہ دوسرے کی طرف منسوب کرنا بہت سخت گناہ ہے۔ گود لینے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بنتا۔ وراثت اور پردہ وغیرہ کے احکام مثل بیٹے کے اس کے لیے ثابت نہ ہوں گے۔ حقیقت کا اظہار کردینا چاہیے، تکلیف اگر ہوگی بھی تو وقتی ہوگی بلکہ اس میں تکلیف نہیں ہوگی، پہلے سے محض اس کا احساس ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند