• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 1148

    عنوان:

    میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں بہت پریشان ہوں۔ کچھ کتابوں میں اس طرح کا مضمون مذکور ہے: ?غیبت تین طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی قسم وہ ہے جس میں آدمی کہے کہ اس نے غیبت کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس شخص میں جو بات موجود تھی وہ ذکر کردیا۔ ایسا کہنا کفر کا سبب ہے کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حرام امر کو حلال سمجھتا ہے۔ ?

    سوال:

    میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں بہت پریشان ہوں۔

    کچھ کتابوں میں اس طرح کا مضمون مذکور ہے: ?غیبت تین طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی قسم وہ ہے جس میں آدمی کہے کہ اس نے غیبت کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس شخص میں جو بات موجود تھی وہ ذکر کردیا۔ ایسا کہنا کفر کا سبب ہے کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حرام امر کو حلال سمجھتا ہے۔ ?

    اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے میں نے اس سے کہا کہ غیبت نہ کیا کرو۔ اس نے کہا کہ غیبت نہیں کررہی ہوں بلکہ جو ہوا اسے بتارہی ہوں۔ میں نے اس کو بتایا کہ اگر یہ بات صحیح ہے تب ہی تو غیبت ہے ، اگر سچ نہ ہو تو الزام ہے۔ میں نے جب درج بالا اقتباس دیکھا تو مجھے فکر لاحق ہوگئی۔ اسے غیبت کے حرام ہونے کا عقیدہ ہے لیکن اسے صرف غیبت کی تعریف معلوم نہیں ہے۔ وہ گھر کے ایک فرد کی شادی اور اس کی شادی میں ہونے والے واقعات کا ذکر کررہی تھی جو غیر اسلامی تھے۔ بعد میں اس نے غیبت کے سلسلے میں ایک مضمو ن پڑھا ۔ پھر بتایا کہ ان کے سلسلے میں بات کرنا غیبت نہیں تھی کیوں کہ کھلم کھلا کی جانے والی چیزوں کا ذکر غیبت نہیں ہے۔ بتلائیں کہ اس سے ہمارے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑتا؟

    جواب نمبر: 1148

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  443/م = 441/م)

     

    اس سے آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا آپ کا نکاح بدستور قائم ہے، یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی شخص علانیہ (کھلم کھلا) طریقے پر برائیوں کا ارتکاب کرے تو ان برائیوں کا اور ایسے شخص کا تذکرہ غیبت نہیں ہے، اس لیے کہ علانیہ طریقے پر معصیت کا ارتکاب فسق ہے اور فاسق کی غیبت ممنوع نہیں ہے لیکن یہ تذکرہ دلی تسکین اور دوسروں کی توہین کی غرض سے نہ ہونا چاہیے بلکہ اس غرض سے ہو کہ لوگ اس کے فسق سے دور رہیں۔ در مختار میں ہے: ومتظاھر بقبیح الخ وفي الشامي: قال في تبیین المحارم: فیجوز ذکرہ بما یجاھر بہ لاغیرہ قال صلی اللہ علیہ وسلم: من ألقی جلباب الیاء عن وجھہ فلا غیبتہ لہ وفي موضع آخر: وفي وجہ ھي مباح: وھو أن یغتاب مُعلناً بفسقہ أو صاحب بدعة، وإن اغتاب الفاسق لیحذرہ الناس یثاب علیہ لأنہ من النھی عن المنکر (شامي زکریا: ج9 ص586) آپ نے غیبت کے تعلق سے جو کتابوں میں مضمون پڑھا ہے وہ صحیح ہے، غیبت کی ایک قسم ایسی ہے جو موجب کفر ہے، لیکن صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی نے جو کچھ بیان کیا چونکہ وہ غیبت کے دائرے میں نہیں آتا اس لیے موجب کفر نہیں، تاہم آئندہ یہ احتیاط ضروری ہے کہ معین طور پر کسی کی برائی نہ کرے اس لیے کہ غیبت کی تعریف یوں کی گئی ہے: الغیبة أن تصف أخاک حال کونہ غائبا بوصف یکرھہ إذا سمعہ ترجمہ: غیبت یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں ایسی بات بیان کریں کہ وہ اگر اس کو سن لے تو اس کو ناگوار ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند