• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 1073

    عنوان:

    میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی مرد صرف اپنی حد تک ایرنگ (کان کی بالی) یا اسی طرح کی چیز پہن سکتا ہے؟ یعنی صرف اپنی خاطر پہنے گا اور ان چیزوں کو لوگوں کے سامنے نہیں پہنے گا بلکہ جب اکیلا ہوگا تب پہنے گا۔ کیا اس کے لیے ایسی چیزیں پہننا جائز ہے؟

    سوال:

    میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی مرد صرف اپنی حد تک ایرنگ (کان کی بالی) یا اسی طرح کی چیز پہن سکتا ہے؟ یعنی صرف اپنی خاطر پہنے گا اور ان چیزوں کو لوگوں کے سامنے نہیں پہنے گا بلکہ جب اکیلا ہوگا تب پہنے گا۔ کیا اس کے لیے ایسی چیزیں پہننا جائز ہے؟

     

    نیز، کیا وہ ponytail کی اسٹائل میں بال رکھ سکتا ہے (جس میں لمبے بالوں کو پیچھے لاکر پیٹھ پر لٹکایا جائے، جس کی شکل گھوڑے کی دم کی طرح ہوتی ہے)؟ یہ بھی لوگوں کے سامنے نہیں کرے گا بلکہ صرف اپنی خاطر ایسا کرے گا۔

    جواب نمبر: 1073

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  516/ن = 505/ن)

     

    (۱) مردوں کے لیے کان میں بالی پہننا مطلقا جائز نہیں ہے: ولا بأس بثقب أذن البنت والطفل استحسانًا ظاہرہ أن المراد بہ الذکر مع أن ثقب الأذن لتعلیق القرط وھو من زینة النساء فلا یحل للذکور (در مع رد المحتار: ج9 ص602)

     

    (۲) یہ بھی بہرحال جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ کان میں بالی پہننے اور اتنے لمبے بال رکھنے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے جو کہ حرام ہے وعن ابن عبّاس -رضي اللہ عنہ- قال قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: لعن المتشبّھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال (رواہ البخاري، مشکوة، ص:۳۸۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند