• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 10584

    عنوان:

    مفتی صاحب میں ایک جانوروں کا ڈاکٹر ہوں جب میں آفس میں ہوتا ہوں تو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے اس کا حل بتائیں۔ (۱)مہینہ میں ایک دو بارکئی پہچان کے یا پھر با اثر غیر مسلم لوگ آکر دیوی دیوتا کے جشن ،میلا، تہوار (غیروں کی عید) کے موقع پر چندہ لکھوانے میں زور و زبردستی کرتے ہیں ۔میں ایک دیندار آدمی ہونے کے ناطے اپنا پیسہ شرک اور شراب میں لگانا پسند نہیں کرتاہوں۔ اس کام کو غلط سمجھتے ہوئے دل سے برا سمجھتے ہوئے کیا ان کو چندہ دے سکتے ہیں؟اگر نہیں تو کیا صورت اختیار کی جائے؟ کیا ان کو اور انھیں کے جیسے کام کرنے والے مسلمان کوجو عرس چراغاں کے لیے چندہ مانگتے ہیں میں بینک یا انشورنس سے ملا ہوا سود کا پیسہ یا راستے میں ملے ہوئے روپیہ میں سے بغیر ثواب کی نیت کے دے دوں تو کیسا ہے؟(۲)غیر مسلم اپنی عید (تہوار)کے دن ہمیشہ گھر یا کھیت پر بلا کر کھانا کھلاتے ہیں جس سے پہلے وہ اپنی پوجا پاٹھ کا اہتام کرتے ہیں۔کیا ہم ان کی دعوت قبول کرسکتے ہیں؟ اسی طرح گھر یا دکان کی ابتدا (افتتاح) پر بلا کر پرساد یا کھانا کھلاتے ہیں کیا کریں؟ (۲)غیروں کی اور اپنے لوگوں کی شادیوں میں گانا بجانا، ناچنا اور کھڑے ہوکر کھانا کھانے کا رواج بڑھ رہا ہے ایسے موقع میں شادی کی دعوت قبول کریں یا پھر اس سے بچیں؟

    سوال:

    مفتی صاحب میں ایک جانوروں کا ڈاکٹر ہوں جب میں آفس میں ہوتا ہوں تو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے اس کا حل بتائیں۔ (۱)مہینہ میں ایک دو بارکئی پہچان کے یا پھر با اثر غیر مسلم لوگ آکر دیوی دیوتا کے جشن ،میلا، تہوار (غیروں کی عید) کے موقع پر چندہ لکھوانے میں زور و زبردستی کرتے ہیں ۔میں ایک دیندار آدمی ہونے کے ناطے اپنا پیسہ شرک اور شراب میں لگانا پسند نہیں کرتاہوں۔ اس کام کو غلط سمجھتے ہوئے دل سے برا سمجھتے ہوئے کیا ان کو چندہ دے سکتے ہیں؟اگر نہیں تو کیا صورت اختیار کی جائے؟ کیا ان کو اور انھیں کے جیسے کام کرنے والے مسلمان کوجو عرس چراغاں کے لیے چندہ مانگتے ہیں میں بینک یا انشورنس سے ملا ہوا سود کا پیسہ یا راستے میں ملے ہوئے روپیہ میں سے بغیر ثواب کی نیت کے دے دوں تو کیسا ہے؟(۲)غیر مسلم اپنی عید (تہوار)کے دن ہمیشہ گھر یا کھیت پر بلا کر کھانا کھلاتے ہیں جس سے پہلے وہ اپنی پوجا پاٹھ کا اہتام کرتے ہیں۔کیا ہم ان کی دعوت قبول کرسکتے ہیں؟ اسی طرح گھر یا دکان کی ابتدا (افتتاح) پر بلا کر پرساد یا کھانا کھلاتے ہیں کیا کریں؟ (۲)غیروں کی اور اپنے لوگوں کی شادیوں میں گانا بجانا، ناچنا اور کھڑے ہوکر کھانا کھانے کا رواج بڑھ رہا ہے ایسے موقع میں شادی کی دعوت قبول کریں یا پھر اس سے بچیں؟

    جواب نمبر: 10584

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 175=168/ د

     

    (۱) ایسے مجبورکُن حالات میں چندہ دیدینے کی گنجائش ہے، آپ خاص ان لوگوں کو دینے کی نیت کرلیں اوراگر یہ کہہ دیں کہ میں آپکو دے رہا ہوں آپ جو چاہیں کریں، تو اور بہتر ہے۔

    (۲) بینک، انشورنس یا راستہ میں ملا پیسہ مذکورہ جگہ پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ کسی غریب کو بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، البتہ اگر چندہ مانگنے والوں میں کوئی غریب ہو تو اسے مالک بناکر دے سکتے ہیں، وہ جو چاہے کرے۔

    (۳) چڑھاوے کی چیز کھانا درست نہیں ہے۔ بغیر چڑھاوے کا کھانا وغیرہ بوقت ضرورت (یعنی مذکورہ مجبوری میں) کھانے کی گنجائش ہے۔

    (۴) ناچ گانا، حرام امور کے قبیل کی چیزیں ہوں اور پہلے سے معلوم ہو کہ ایسا ہوگا، تو وہاں شرکت نہ کریں۔ اوراگر جانے کے بعد ان چیزوں کا علم ہوا ہے، ایسی صورت میں چلا آنا بہتر ہے کسی مجبوری سے شرکت کرلی تو گنجائش ہے، مجبوری کا مطلب رشتہ داری منقطع ہوجانے کا اندیشہ ہو یا کسی ضرر کے لاحق ہونے کا خطرہ ہو اور یہ شخص اگر مقتدا ہے تو بہر صورت واپس آجانے کا حکم ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند