• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 9351

    عنوان:

    مجھے ایک مسئلہ معلوم ہوا ہے جس کے بارے میں میں آپ کا فتوی لینا چاہتا ہوں۔ میرے پڑوس میں ایک ستر سالہ عورت رہتی ہیں۔ ان کی پانچ لڑکیاں ہیں اورایک لڑکا ہے سب کے سب شادی شدہ ہیں اور اچھی طرح گزر بسر کررہے ہیں۔ ان کے شوہر کا پانچ سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ وہ حج ادا کرنا چاہتی ہیں، تاہم ان کا ساتھ دینے کے لیے کوئی محرم نہیں ہے ان کے اپنے ذاتی پابندی کی وجہ سے۔ کیا ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے اوردوسری ہیئت پر نظر رکھتے ہوئے ان کو بغیر محرم کے حج ادا کرنا درست ہے؟

    سوال:

    مجھے ایک مسئلہ معلوم ہوا ہے جس کے بارے میں میں آپ کا فتوی لینا چاہتا ہوں۔ میرے پڑوس میں ایک ستر سالہ عورت رہتی ہیں۔ ان کی پانچ لڑکیاں ہیں اورایک لڑکا ہے سب کے سب شادی شدہ ہیں اور اچھی طرح گزر بسر کررہے ہیں۔ ان کے شوہر کا پانچ سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ وہ حج ادا کرنا چاہتی ہیں، تاہم ان کا ساتھ دینے کے لیے کوئی محرم نہیں ہے ان کے اپنے ذاتی پابندی کی وجہ سے۔ کیا ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے اوردوسری ہیئت پر نظر رکھتے ہوئے ان کو بغیر محرم کے حج ادا کرنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 9351

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2537=2099/ ب

     

    صورت مسئولہ میں ستر سالہ بوڑھی عورت کے لیے، بغیر محرم کے بغرض ادائیگی فریضہ حج سفر کرنے کی گنجائش ہے، اور حج درست ہوجائے گا۔

    لیکن بغیر محرم کے سفر کرنے کا گناہ ہوگا۔ لہٰذا محرم کا انتظام ہونے تک حج موٴخر کردے، تاخیر کا گناہ اسے نہ ہوگا، پھر بھی اگر محرم میسر نہ ہوا تو حج کرنے کی وصیت کرجائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند