• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 601076

    عنوان:
    نذر مانی كہ "جب میں صحتیاب ہوجاؤں گا تو میں ایک حج ادا کروں گا۔" كیا اس سے حج فرض كے علاوہ حج واجب ہوگا؟

    سوال:

    ایک بیمار شخص نے کہا ، "جب میں صحتیاب ہوجاؤں گا تو میں ایک حج ادا کروں گا۔" اور پہلے ہی اس پر حجة الاسلام واجب تھا ، اس صورت میں اس کے ذمہ پر کتنے حج کی ضرورت ہوگی؟ اگر کسی کا ذمہ پر نذر کا ایک حج اور حجة الاسلام سمیت کل دو حج کی ضرورت ہو ۔

    (۲) اس صورت میں ، اگر یہ شخص صرف حجة الاسلام کی نیت سے یا مطلق حج کے نیت سے حج ادا کرے تو کیا اس ایک حج سے اس کا دونوں حج ادا ہو جائے گا؟

    (۳) اگر کسی فرد نے ایک ہی وقت میں حجة الاسلام اور نذر کے حج کی نیت نیت سے ایک حج ادا کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

    جواب نمبر: 601076

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 176-145/D=04/1442

     ”میں ایک حج ادا کروں گا“ سے اگر حج فرض کے علاوہ دوسرا حج مراد نہیں تھا تو بس ایک حج فرض ادا کرلینے سے نذر بھی پوری ہو جائے گی اور حج فرض بھی ادا ہو جائے۔ قال فی الدر: فلو نذر حجة الاسلام لم یلزمہ شیء غیرہا (الدر مع الرد: ۵/۵۱۹)

    اور اگر نذر میں فرض حج کے علاوہ دوسرا حج مقصد تھا تو پھر اس کی نیت صحیح ہوگی اور فرض حج کے علاوہ ایک حج مزید کرنا ہوگا۔

    قال فی العالمگیریہ: ولو قال: إن برأت فعليّ حجةٌ فبرأ وحج جاز ذالک عن حجة الاسلام ولو نویٰ غیر حجة الإسلام صحت نیتہ ۔ (ہندیہ: ۱/۳۲۷)

    (۲) دونوں حج ادا نہیں ہوں گے بلکہ حجة الاسلام ادا ہوگا۔

    (۳) حجة الاسلام اور نذر دونوں کی نیت کرنے کی صورت میں حجة الاسلام ادا ہوگا کیونکہ وہ اقویٰ ہے۔ کذا في شرح الحموي علی الأشباہ ۔ ص: ۱۳۷ ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند