• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 600125

    عنوان:

    حالت احرام میں بال ٹوٹنے ، روزے کے دوران شہوت کے ساتھ منی خارج ہوجانے اور قسم کے بعض مسائل

    سوال:

    (۱) مجھے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے، 2018ء میں غالباً مزدلفہ میں تھا احرام کی حالت میں، جب میں استنجاء کے لیے گیا تو کچھ پرپشان تھا بیماری کی وجہ سے ، میں قطروں کے نکلنے کے لیے ٹشو پیپر استعمال کررہا تھا تقریباً ۴۵منٹ تک ٹوائلیٹ میں رہا، ٹوائلیٹ میں میرے عضو تناسل کے نیچے کے بال ٹوٹ گئے استنجاء کے درمیان بے دھیانی میں، بال توڑنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا، مجھے بال جب ٹوائلیٹ سیٹ پر دکھے تو میں پریشان ہوگیا کہ کہیں مجھ پر دم تو واجب نہیں ہوا۔ میرے پاس پیسہ بھی کم تھا، اس لیے سوچا اللہ معاف کرے گا، حضرت بتائیں کہ اب میں انڈیا میں ہوں ، مجھ پر دم تو واجب نہیں ہوا ؟ اب میں کیا کروں؟

    (۲) جیسا کہ میں نے بتایا کہ مجھے پیشاب کے قطروں کی بیماری ہے، اس سال میں انڈیا میں یہ سوچ کر کہ یہ نسوں کی کمزوری کی وجہ سے ہے، میں روزہ کی حالت میں زیتون کا تیل لگا تھا عضو تناسل پر ، کبھی کبھی جوش آتا تھا، لیکن منی نہیں نکلتی تھی، کبھی منی کا قطر آتا تھا، مجھے یہ دھیا ن نہیں آیا کہ اس سے روزہ خراب ہوسکتاہے، میں تو اس لیے تیل لگا تاتھا کہ نماز میں قطرے نہ آئے ، میں بالکل ٹھیک ہوجاؤں، اب بتائیں کیا مجھے روزہ دوبارہ رکھنا پڑے گا؟

    (۳) میں دسوی کلاس میں تھا ، میں نے دل میں کہا کہ اللہ مجھے پاس کردے ، میں دس رکعت نماز پڑھوں گا، لیکن دل میں نہ چاہتے ہوئے یہ آتا رہا کہ پچاس پڑھوں گا ، پھر آیا کہ سو پڑھوں گا، پھر بڑھتے بڑھتے 650پڑھوں گا، میں امتحان کو لے کر پریشان تھا ہی، میں نے کہا چلو 650پڑھوں گا ، اب بتائیں ، میں کتنی پڑھوں؟ اب مجھے لگتا ہے کہ 650کے حساب پڑھی جائے۔

    (۴) ایک دن شیطان نے دل میں خیال ڈالا کہ اگر میں ٹی وی دیکھوں تو میرا ایمان سلب ہوجائے، میں نے سوچا کہ چلو اب ٹی وی نہیں دیکھیں گے، جب سے میں ٹی وی نہیں دیکھتا، لیکن کبھی کبھی کسی ویڈو موبائل پر یا کہیں نگاہ پڑ جاتی ہے تو تھوڑا دیکھ کر ڈر سے نظر ہٹا لیتاہوں کہیں ایمان نہ چلا جائے ، کچھ ویڈیوز تعلیمی ہوتی ہیں اسے بھی ڈر سے نہیں دیکھتاہوں کہ اس میں بھی ٹیچر جانداد ر میں شامل ہے، کیا میں کام کی ویڈیوز جیسے تعلیمی یا بزنس کی دیکھ سکتاہوں؟

    (۵) ہم چودہ پندرہ سال کے تھے ، ایک میدان میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے ، اس میں میدان سے لگا ایک ہوسٹل تھا جو بند رہتاتھا، ہم اس ہوسٹل کوکھنڈر سمجھتے تھے ، جب ہماری بال اس ہوسٹل میں جاتی تو ہم اس گھر پر پتھر مارتے ، ہم سے اس کی کھڑکی کے شیشے ٹوٹ گئے، ایک دن جب ہم غصے میں پتھر ماررہے تھے تبھی اس ہوسٹل کی مالکن بوڑھی عورت آگئی ، اس نے ہم کو بہت بد دعا دی ، ہم ڈر گئے تھے، اب بھی ڈر لگتاہے بد دعا سے ، ہمیں بد دعا سے بچنے کاراستہ بتائیں۔

    جواب نمبر: 600125

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:59-38T/sn=3/1442

     (1) اگر صرف ایک دوبال گرے ہیں تب تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ؛ زائد ہونے کی صورت میں ہر تین بال پر ایک مٹھی غلہ صدقہ کرنا کافی ہے ، دم واجب نہیں ہے ، صدقة کہیں سے بھی کیا جاسکتا ہے ، حرم ہی میں کرنا ضروری نہیں ہے ۔

    ......فتبین أن نصف الصاع إنما ہو فی الزائد علی الشعرات الثلاث، أما إذا إذا سقط بفعل الأمور بہ کالوضوء ففی ثلاث شعرات کف واحدة من طعام أفادہ السعود، ما فی البدائع وغیرہ ولو أخذ شیئا من رأسہ أو لحیتہ أو لمس شیئا من ذلک فانتثر منہ شعرة فعلیہ صدقة فلعلہ تفریع علی إطلاق الروایة.(غنیة الناسک ،ص:330،الفصل الرابع فی الحلق وإزالة الشعر،ط:مکتبة یادکار شیخ سہارن فور) وفیہ : وإن کان سقط بدون نتف بأن توَضأ فسقط أو احترق بسب خبزہ کما فی مناسک الفارسی وجب للثلاث کف واحدة من طعام إلخ (ص:332)

    (2)اگر آپ کے ہاتھ کے سہارے کے بغیر منی نکلی ہو توصورت مسئولہ میں آپ کا روزہ نہیں ٹوٹا، اگر ہاتھ سے مالش کے دوران شہوت پیدا ہوئی اور اسی حالت میں انزال بھی ہوا یعنی منی نکلی تو روزہ ٹوٹ گیا، جس کی قضا ضروری ہے۔

    ......"أو أنزل بنظر" إلی فرج امرأة لم یفسد "أو فکر وإن أدام النظر والفکر" حتی أنزل لأنہ لم یوجد منہ صورة الجماع ولا معناہ قولہ: "أو أنزل بنظر" قید بالنظر لأن الإنزال بالمس ولو بحائل توجد معہ الحرارة مفسد ولو استمنی بکفہ فعامة المشایخ أفتوا بفساد الصوم وہو المختار(حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح ص: 658، باب فی بیان مالایفسد الصوم،مطبوعة:المکتبة الأشرفیة دیوبند)

    (3) محض دل کے ارادے سے “نذر” منعقد نہیں ہوتی؛ بلکہ زبان سے الفاظ نذر کا ادا کرنا ضروری ہے ؛اس لیے صورت مسئولہ میں آپ پر اتنی مقدار نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے ؛ باقی آپ نے ایک عملِ صالح کا ارادہ کیا ہے تو حسب سہولت جتنی ہوسکے نمازپڑھ لیا کریں ۔

    (4) آپ نے ٹیوی دیکھنا چھوڑدیا بہت اچھا کیا، ٹیوی دیکھنے کی صورت میں آدمی کے لیے گناہوں سے بچنا ناممکن ہے ۔آپ موبائل میں ویڈیو دیکھنا بھی چھوڑدیں ؛ کیونکہ موبائل پر نامحرموں کی تصاویر دیکھنا بھی شرعا جائز نہیں ہے ۔(منتخبات نظام الفتاوی3/334، کتاب الحظر والإباحة) تعلیمی اور بزنس کی ویڈیوز بھی نہ دیکھیں ، ان میں بھی مذکورہ قباحت پائی جاسکتی ہے ، ضرورت ہوتو آڈیو سننے پر اکتفا کریں ۔

    (5) گھر پر پتھر مارنا جائز نہ تھا، گھر کے جو شیشے آپ نے توڑے ہیں ان کا ضمان آپ پر لازم ہے ، اگر وہ بُڑھیا حیات ہے تو اسے ورنہ اس کے ورثا کو ضمان ادا کردیں، نیز اِس ناجائز عمل پر اللہ تعالی سے توبہ واستغفار بھی کریں ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند