• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 57920

    عنوان: حج کمپنی کا آدمی ہر دوسرے یا تیسرے دن مدینہ جاتا ہے ۔اور ایک دن گزار کر پھر واپس حرم شریف آتا ہے ۔چالیس دن تک۔کیا ہر دفعہ حرم آتے ہوئے اس کو احرام باندھنا ہو گا؟

    سوال: حج کمپنی کا آدمی ہر دوسرے یا تیسرے دن مدینہ جاتا ہے ۔اور ایک دن گزار کر پھر واپس حرم شریف آتا ہے ۔چالیس دن تک۔کیا ہر دفعہ حرم آتے ہوئے اس کو احرام باندھنا ہو گا؟

    جواب نمبر: 57920

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 485-495/N=6/1436-U احناف کے نزدیک آفاقی شخص اگر مکہ مکرمہ (حدود حرم میں) جاتا ہے تو اگرچہ اس کا حج یا عمرے کا ارادہ نہ ہو تب بھی اس کے لیے میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھ کر ہی جانا ضروری ہوگا ورنہ وہ جتنی بار حدود حرم میں داخل ہوگا، ہرمرتبہ کے بدلہ اس پر ایک حج یا عمرہ لازم ہوجائے گا، اور ہرمرتبہ الگ الگ دم بھی دینا ہوگا ”إذا داخل الآفاقي مکة بغیر إحرام وہو لا یرید الحج والعمرة فعلیہ لدخول مکة إما حجة أو عمرة فإن أحرم بالحج أو العمرة من غیر أن یرجع إلی المیقات فعلیہ دم لترک المیقات“ (فتاوی عالمگیري: ۱: ۲۵۳ مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند) ولو دخلہا مرارا بلا اِحرام فعلیہ لکل دخول حج أوعمرة (غنیة الناسک ص۶۲، البحر العمیق ۳: ۶۲۳) وکذا لکل دخول دم مجاوزة (مناسک کبیر ص۸۸)، البتہ بعض مفتیانِ کرام نے ان لوگوں کو حق میں جو بار بار حدود حرم میں آتے جاتے ہیں اور ہربار عمرہ کرنے میں ان کے لیے حرج عظیم اور شدید مشقت ہے امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے مسلک پر عمل کی گنجائش دی ہے یعنی: اگر ان کا ارادہ حج یا عمرہ کا نہ ہو تو وہ احرام کے بغیر حدود حرم میں جاسکتے ہیں، ا ن پر حج یا عمرہ لازم نہ ہوگا، لیکن حج کمپنی کا آدمی چوں کہ تین یا چار دن کے وقفہ سے حرم شریف میں داخل ہوتا ہے؛ اس کے حق میں بظاہر حرج عظیم اور شدید مشقت معلوم نہیں ہوتی؛ لہٰذا اسے مسلک حنفی کے مطابق میقات سے احرام کے بغیر نہ گزرنا چاہیے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر جلد ا ز جلد عمرہ کرکے حلال ہوجانے کے بعد اپنی مفوضہ ذمہ داریوں میں لگنا چاہیے۔ اور اگر حجاج کرام کی بھیڑ کی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی میں اس کا بہت زیادہ وقت صرف ہوتا ہو جس کی بنا پر اسے مفوضہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں بہت زیادہ دقت ودشواری ہوتی ہو تو اس کے لیے بھی امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے مسلک پر عمل کی اجازت ہوگی کیوں کہ حرج عظیم اور شدید مشقت کی علت یہاں بھی پائی جارہی ہے۔ (اوجز المسالک (۳:۷۳۱ قدیم) میں ابن قدامہ کے حوالہ سے ہے: القسم الثانی من یرید دخول الحرم إما إلی مکة أو غیرہا فہم علی ثلاثة أضرب: أحدہا من یدخلہا لقتال مباح أو من خوف أو لحاجة متکررة کلحشاش والحطاب وناقل المیرة ومن کانت لہ ضیعة یتکرر دخولہ وخروجہ إلیہا فہوٴلاء لا إحرام علیہم الخ وبہذا قال الشافعي رحمہ اللہ، وقال أبو حنیفة رحمہ اللہ: لا یجوز لأحد دخول الحرم بغیر إحرام إلا من کان دون المیقات اہ․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند