• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 57006

    عنوان: میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر ہم عمرہ پر جاتے ہیں تو وہاں ہم نماز قصر پڑھیں یا پوری نماز پڑھیں گے؟

    سوال: میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر ہم عمرہ پر جاتے ہیں تو وہاں ہم نماز قصر پڑھیں یا پوری نماز پڑھیں گے؟

    جواب نمبر: 57006

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 151-143/N=3/1436-U اگر وہاں پہنچ کر مکہ مکرمہ میں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو تو آپ وہاں مسافر رہیں گے اور چار رکعت والی نمازوں میں قصر کریں گے، جب کہ آپ خود امام ہوں یا مسافر امام کی اقتدا کریں یا اکیلے نماز پڑھیں گے، اور اگر آپ کا امام مقیم ہو تو مسافر ہونے کے باوجود اس کے پیچھے پوری چار رکعت پڑھیں گے۔ اور اگر مکہ مکرمہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو وہاں مقیم ہوں گے اور کسی نماز میں قصر نہیں کریں گے خواہ اکیلے پڑھی یا کسی امام کے پیچھے۔ اسی طرح مدینہ منور میں بھی پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں وہاں مسافر رہیں گے اور پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی صورت میں مقیم ہوں گے: ”ولا یزال علی حکم السفر حتی یدخل وطنہ أو ینوي مدة الإقامة ببلد آخر أو قریة وہي خمسة عشر یومًا أو أکثر“ (ملتقی الأبحر مع الجمع والدر ۱:۲۴۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیة بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند