• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 43506

    عنوان: چمڑے كے موزوں كے ساتھ عمرہ

    سوال: جب کبھی میں جوتا اور کوٹن یا چمڑے کے موزے نہیں پہنتاہوں تو میرے پیر میں درد ہوتاہے، آخری مرتبہ 2010 میں جب میں عمرہ کے لیے گیا تو موزے نہ ہونے کی وجہ سے کافی سوجن ہوگیا تھا، میں فکرمند ہوں کہ کیا کوٹن یا چمڑے کے موزے پہن کر طواف اور سعی کرسکتاہوں؟ میرے پیر کے بارے میں ایک ماہر اڈاکٹر نے مشورہ دیا ہے ۔ میرے پیر بہت زیادہ چوڑے ہیں․․․․․․․․․․․․․․2013 میں حج /عمرہ کرنے کا ارادہ ہے۔براہ کرم، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 43506

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 343-158/L=3/1434 اگر آپ کو حالت احرام میں موزے پہننے کی ضرورت ہو تو ایسا موزہ استعمال کرسکتے ہیں جو چپل نما ہو اور جس سے انگلی اور ایڑی چھپ جائیں ، قدم کی ابھری ہوئی ہڈی نہ چھپے: وإن لبسہما بعد القطع أسفل من موضع الشراک فلا شيء علیہ (غنیة الناسک: ۲۵۴) ایسے موزے دکانوں پر مل جائیں گے یا خود کاٹ کر بھی اس طرح بنایا جاسکتا ہے، حالت احرام میں ایسا موزہ پہننا جس سے قدم کی ابھری ہوئی ہڈی چھپ جائے جائز نہیں۔ اضح رہے کہ یہ پابندی صرف آدمی کے احرام میں رہنے تک ہے اس کے بعد یہ پابندی نہیں ہے، عمرہ کا احرام طواف سعی اور حلق کے بعد کھل جاتا ہے، اسی طرح حج کا احرام بھی دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی اور اس کے بعد قربانی (اگر قارن ومتمتع ہو) اوراس کے بعد حلق کے بعد کھل جائے گا، یہ اوقات زیادہ نہیں ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند