• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 37340

    عنوان: کیا میں عمرے پر جا سکتی ہوں ؟

    سوال: آپ سے ایک دینی معاملے کی رہنمائی درکار ہے۔میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں اور میری عمر تقریباً 62سال ہے۔میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور اللہ کے فضل سے سب شادی شدہ ہیں۔میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ رہتی ہوں۔میں نے اب سے کوئی سات سال قبل اپنے خاوند کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی تھی۔اسکے بعد سے میری شدید خواہش ہے کہ میں بیت اللہ شریف اور روضہٴ رسول? کی زیارت کروں۔مگر میرے پاس وسائل نہیں کہ اپنی اس خواہش کو پورا کرسکوں۔میرے بیٹوں کی آمدنی بھی اتنی نہیں کہ وہ اس سلسلے میں میری کوئی مدد کرسکیں۔ابھی چند دن پہلے مجھ سے میرے خاوند کی سگی بھتیجی نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی جس کی عمرتقریباًسال ہے( یعنی میرے خاوند کے بھتیجے) اور اسکی بیوی کے ہمراہ عمرہ پر جا رہی ہے،اس نے مجھے سے بھی ساتھ جانے کو کہا ہے،اور کہا ہے کہ میرے تمام اخراجات وہ برداشت کرے گی۔میرے لئے یہ بہت خوشی کا مقام ہے مگرچند لوگوں کا کہنا ہے کہ میرا ان لوگوں کے ہمراہ جانا درست نہیں،کیونکہ ان افرد میں کوئی میرا محرم نہیں۔آپ سے التماس ہے کہ میری رہنمائی کریں کہ آیا ان حضرات یعنی میرے شوہر کی سگی بھتیجی،شوہر کے سگے بھتیجے اور اسکی بیوی کے ہمراہ عمرہ پہ جانا درست ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 37340

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 472=472-3/1433 بیت اللہ شریف اور روضہٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شوق مبارک اور قابل تعریف ہے، یہ خواہش ہرمسلمان کے دل میں ہوتی ہے اور ہونی چاہیے؛ لیکن جن کے روضہٴ اطہر کی زیارت کی تمنا ے ان ہی کا فرمان یہ ہے کہ : لا تُسافر امرأة ثلاثة أیام إلا ومعہا محرمٌ أو زوجٌ (حدیث) یعنی کوئی عورت محرم یا شوہر کے بغیر تین دن کی مسافت (شرعی مسافت) کا سفر نہ کرے، صورت مسئولہ میں آپ کے خاوند کی بھتیجی کا شوہر آپ کے لیے شرعی محرم نہیں ہے؛ لہٰذا ان کے ہمراہ عمرہ کے لیے جانا درست نہیں، شوہر یام حرم کے بغیر توعورت کے لیے حج فرض میں جانے کی اجازت نہیں تو عمرہ کے لیے نامحرم کے ساتھ جانے کی اجازت کیوں کر ہوسکتی ہے، جب کہ عمرہ نہ فرض ہے نہ واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند