• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 35397

    عنوان: میرے نام دکان، زمین جائداد ہے، میں نے ملکیت کا وارث اپنے بچوں کو بنایا نہیں ہے۔ بیٹے مجھے کاروبار میں مدد کرتے ہیں میں ان کو تنخواہ دیتا ہوں ان کے اوپر حج فرض ہے؟ اگر میں ان کو حج پر جانے کے لیے تمام خرچ دیتا ہوں تو ان کا حج فرض پورا کردے گی یا جب ان کو وراثت ملے گی اور مال دار ہوں گے تب دوبارہ حج کرنا پڑے گا؟

    سوال: میرے نام دکان، زمین جائداد ہے، میں نے ملکیت کا وارث اپنے بچوں کو بنایا نہیں ہے۔ بیٹے مجھے کاروبار میں مدد کرتے ہیں میں ان کو تنخواہ دیتا ہوں ان کے اوپر حج فرض ہے؟ اگر میں ان کو حج پر جانے کے لیے تمام خرچ دیتا ہوں تو ان کا حج فرض پورا کردے گی یا جب ان کو وراثت ملے گی اور مال دار ہوں گے تب دوبارہ حج کرنا پڑے گا؟

    جواب نمبر: 35397

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1795=1269-12/1432 اگر آپ کے بالغ بچوں پر حج فرض نہیں تو آپ اپنی رقم سے ان کو حج کراتے ہیں اور وہ اپنی طرف سے حج فرض کی نیت سے حج کرتے ہیں تو ان کا حج فرض ادا ہوجائے گا، مال دار ہونے کے بعد ان کو دوبارہ حج کرنا لازم وضروری نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند