• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 28647

    عنوان: (۱) اس سال میں نے اپنے شوہر کے ساتھ حج کیا ہے۔ ہم لوگوں کو سب سے مدینہ منورہ بھیجا گیا تھا، جب ہم لوگوں کو مدینہ سے مکہ مکرمہ بھیجنے کی تاریخ آئی تو اس سے ایک دن پہلے میری ماہواری شروع ہوگئی، میں نے سب کے ساتھ ذو الحلیفہ پر اپنا احرام باندھ لیا اور احرام کی نیت سے مکہ چلی گئی اور سات دن تک احرام کی حالت میں اپنے کمرہ میں ٹھہر ی رہی ، پھرپاک ہونے کے بعد حرم شریف گئی اور عمرہ کیا ، کیا یہ طریقہ جو میں نے اپنا یا صحیح تھا ؟ یا مجھے بنا احرام باندھے ہوئے اور بنا احرام کی نیت سے مکہ جانا تھا؟ اور پاک ہونے کے بعد وہاں پہنچ کر مسجد عائشہ جا کر احرام باند ھنا اور نیت کرنی تھی جس سے زیادہ دن احرام کی پابندیوں میں نہ رہتی ، ان دنوں میں کونسا طریقہ صحیح ہے؟
    (۲) اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ طواف کرنے میں ہرچکر پر دو رکعات نفل پڑھتا رہے تو کیا یہ درست ہے؟یا اس نے انجانے میں کیا ؟ بعد میں کسی نے بتایا کی طواف کے سات چکر پورے کرنے پر دو نفل پڑھی جاتی ہے نہ ہر چکر پر ؟
    (۳) کچھ لوگ کہتے ہیں حدود احرام میں جہاں بھی ٹھہرے ہوئے ہوں وہاں کی کسی بھی مسجد میں نماز پڑھیں تو وہی ثواب ملتاہے جو حرم شریف میں پڑھنے سے ملتاہے ، کیا یہ بات درست ہے؟

    سوال: (۱) اس سال میں نے اپنے شوہر کے ساتھ حج کیا ہے۔ ہم لوگوں کو سب سے مدینہ منورہ بھیجا گیا تھا، جب ہم لوگوں کو مدینہ سے مکہ مکرمہ بھیجنے کی تاریخ آئی تو اس سے ایک دن پہلے میری ماہواری شروع ہوگئی، میں نے سب کے ساتھ ذو الحلیفہ پر اپنا احرام باندھ لیا اور احرام کی نیت سے مکہ چلی گئی اور سات دن تک احرام کی حالت میں اپنے کمرہ میں ٹھہر ی رہی ، پھرپاک ہونے کے بعد حرم شریف گئی اور عمرہ کیا ، کیا یہ طریقہ جو میں نے اپنا یا صحیح تھا ؟ یا مجھے بنا احرام باندھے ہوئے اور بنا احرام کی نیت سے مکہ جانا تھا؟ اور پاک ہونے کے بعد وہاں پہنچ کر مسجد عائشہ جا کر احرام باند ھنا اور نیت کرنی تھی جس سے زیادہ دن احرام کی پابندیوں میں نہ رہتی ، ان دنوں میں کونسا طریقہ صحیح ہے؟
    (۲) اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ طواف کرنے میں ہرچکر پر دو رکعات نفل پڑھتا رہے تو کیا یہ درست ہے؟یا اس نے انجانے میں کیا ؟ بعد میں کسی نے بتایا کی طواف کے سات چکر پورے کرنے پر دو نفل پڑھی جاتی ہے نہ ہر چکر پر (۳) کچھ لوگ کہتے ہیں حدود احرام میں جہاں بھی ٹھہرے ہوئے ہوں وہاں کی کسی بھی مسجد میں نماز پڑھیں تو وہی ثواب ملتاہے جو حرم شریف میں پڑھنے سے ملتاہے ، کیا یہ بات درست ہے؟

    ؟

    جواب نمبر: 28647

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 224=57-2/1432

    آپ نے جو طریقہ اختیار کیا وہی درست تھا۔ بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کرنا صحیح نہیں، اگر آپ بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کرکے مکہ چلی جاتیں تو بھی آپ کو بوقت ادائیگی عمرہ میقات آنا پڑتا، مسجد عائشہ جاکر احرام باندھ لینا کافی نہ ہوتا۔ اگر مسجد عائشہ جاکر احرام باندھ کر عمرہ ادا کرتیں تو ایک دم بھی آپ پر واجب ہوجاتا۔ 
    (۲) ہرطواف کے ہرچکر پر دو رکعت نفل پڑھنا صحیح نہیں، بعد میں جس نے بتایا اس نے صحیح بتایا۔
    (۳) حدود حرم کی کسی بھی مسجد میں نماز پڑھنے کا وہی ثواب ہے تو مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ہے، البتہ مسجد حرام کی صراحت خود حدیث شریف میں موجود ہے اور بعض حضرات کی رائے بھی یہی ہے کہ یہ ثواب صرف مسجد حرام کے ساتھ خاص ہے، اس لیے مسجد حرام میں ہی نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وتفصیلہ فی الشامی۔
    نوٹ: مسجد حرام میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرنے کا حکم مردوں کے لیے ہے، عورتوں کو اپنے کمرہ ہی میں ادا کرنا چاہیے، البتہ کبھی طواف کرنے گئی اور اتفاق سے جماعت کا وقت قریب ہوگیا تو اس حصہ میں جو خواتین کے لیے مخصوص ہے نماز ادا کرلے۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند