• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 27675

    عنوان: (۱) کیا خانہ کعبہ کا نفلی طواف کسی دوسرے کی طرف سے کیا جاسکتا ہے؟ (۲)میں دبئی میں نوکری کرتا ہوں اپنے گھر کی پوری ذمہ داری میں اٹھاتا ہوں بہن کی شادی میں نے کرائی والدین کو حج پر بھیجنے کا ارادہ بھی ہے۔ مجھ سے چھوٹے تین بھائی ہیں ایک ممبئی میں رہتا ہے جس نے پچھلے تین سال میں ایک روپیہ بھی گھر پر نہیں بھیجا۔ ایک بھائی وہ بھی دبئی میں ہے اس کی تنخواہ بہت کم ہے پھر بھی جو ہوسکتا ہے گھر پر بھیجتا ہے۔ سب سے چھوٹا گھر کا چھوٹا سا کاروبار والد کے ساتھ مل کر دیکھتا ہے جس کی آمدنی بہت تھوڑی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری پوری کمائی میں سب بھائیوں کا حق ہے ؟اگر سب ذمہ داری پوری کرنے کے بعد کچھ پیسہ میں اپنے لیے جمع کروں تو کیا حلال ہوگا یاحرام؟ معاف کریں سوال کافی لمبا ہوگیا۔

    سوال: (۱) کیا خانہ کعبہ کا نفلی طواف کسی دوسرے کی طرف سے کیا جاسکتا ہے؟ (۲)میں دبئی میں نوکری کرتا ہوں اپنے گھر کی پوری ذمہ داری میں اٹھاتا ہوں بہن کی شادی میں نے کرائی والدین کو حج پر بھیجنے کا ارادہ بھی ہے۔ مجھ سے چھوٹے تین بھائی ہیں ایک ممبئی میں رہتا ہے جس نے پچھلے تین سال میں ایک روپیہ بھی گھر پر نہیں بھیجا۔ ایک بھائی وہ بھی دبئی میں ہے اس کی تنخواہ بہت کم ہے پھر بھی جو ہوسکتا ہے گھر پر بھیجتا ہے۔ سب سے چھوٹا گھر کا چھوٹا سا کاروبار والد کے ساتھ مل کر دیکھتا ہے جس کی آمدنی بہت تھوڑی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری پوری کمائی میں سب بھائیوں کا حق ہے ؟اگر سب ذمہ داری پوری کرنے کے بعد کچھ پیسہ میں اپنے لیے جمع کروں تو کیا حلال ہوگا یاحرام؟ معاف کریں سوال کافی لمبا ہوگیا۔

    جواب نمبر: 27675

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2752=1135-12/1431

     

    (۱) کیا جاسکتا ہے۔

    (۲) اپنی ذاتی کمائی سے جو کچھ والدین بھائی بہنوں پر خرچ کریں گے وہ تبرع ہوگا جس کا اجر کثیر اللہ پاک عطاء فرمائے گا۔ دنیا وآخرت کی برکات اس خرچ کرنے پر حاصل ہوں گی، اور اگر ذاتی کمائی سے کچھ پیسہ جمع کرکے اپنے لیے مختص کرلیں گے تو آپ کے حق میں یہ حرام یا گناہ نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند