• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 26477

    عنوان: حکومت کی طرف سے خرچ کے لیے پیسے مل رہے ہیں، میں کام بھی کرتاہوں اور حج کرنے کے لیے جانا چاہتاہوں، میرے اکثر پیسے میری ذاتی کمائی سے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے مل رہی رقم میری ذاتی آمدنی میں خلط ملط ہوگئی ہے۔ کیا میں اس رقم سے حج کرسکتاہوں، مطلب کیا اس رقم سے حج ادا ہوجائے گا؟

    سوال: حکومت کی طرف سے خرچ کے لیے پیسے مل رہے ہیں، میں کام بھی کرتاہوں اور حج کرنے کے لیے جانا چاہتاہوں، میرے اکثر پیسے میری ذاتی کمائی سے ہیں، لیکن حکومت کی طرف سے مل رہی رقم میری ذاتی آمدنی میں خلط ملط ہوگئی ہے۔ کیا میں اس رقم سے حج کرسکتاہوں، مطلب کیا اس رقم سے حج ادا ہوجائے گا؟

    جواب نمبر: 26477

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1825=1450-11/1431

    حکومت کی طرف سے جو پیسے آپ کو برائے خرچ مل رہے ہیں وہ بلاتردد آپ کو اپنے ہراستعمال میں لے آنا درست ہے، وہ پیسے اگر آپ کی ذاتی آمدنی میں خلط ملط ہوگئے تو کوئی حرج نہیں، جس طرح آپ کی ذاتی آمدنی صحیح ہے، اسی طرح حکومت کی طرف سے ملے ہوئے پیسے بھی صحیح ہیں۔ آپ اس مخلوط رقم سے حج کے لیے جاسکتے ہیں اور ضرور ضرور تشریف لے جائیں، آپ کا حج بلا کسی کراہت کے ادا ہوگا اور ان شاء اللہ مقبول ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند