• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 24193

    عنوان: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام مندرجہء ذیل مسائل کے بارے میں کہ: ۱) آجکل حرمین شرفین مین حج و عمرہ کے دوران جو ہجوم اور بے پردگی عام ہے،ایسے حالات میں عورتوں کے لئے حج و عمرہ کے لئے جانا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں کے بعض عالم صاحب کا کہنا ہے کہ فرض حج بھی حج بدل کروانا چاہئے، کیونکہ جسطرح حج فرض ہے اسی طرح پردہ بھی فرض ہے۔چونکہ بے پردگی عام ہے ،اس لئے پردہ کی حفاظت کی خاطر حج فرض ہو نے پر بھی حج بدل کروانا چاہئے۔کیا مسئلہ ایسا ہی ہے؟ ۲) بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت اگر اپنی حج فرض ادا کر چکی ہو تو اب ان کو نفل حج و عمرہ کے لئے نہیں جانا چاہئے،کیونکہ وہاں بے پردگی عام ہے۔اگرچہ وہ خود باپردہ کیوں نہ ہو۔ کیا ایسی حالت میں ان کے لئے نفل حج و عمرہ کے لئے جانے کی شرعا کیسا ہے؟مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

    سوال:
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام مندرجہء ذیل مسائل کے بارے میں کہ: ۱) آجکل حرمین شرفین مین حج و عمرہ کے دوران جو ہجوم اور بے پردگی عام ہے،ایسے حالات میں عورتوں کے لئے حج و عمرہ کے لئے جانا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں کے بعض عالم صاحب کا کہنا ہے کہ فرض حج بھی حج بدل کروانا چاہئے، کیونکہ جسطرح حج فرض ہے اسی طرح پردہ بھی فرض ہے۔چونکہ بے پردگی عام ہے ،اس لئے پردہ کی حفاظت کی خاطر حج فرض ہو نے پر بھی حج بدل کروانا چاہئے۔کیا مسئلہ ایسا ہی ہے؟ ۲) بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت اگر اپنی حج فرض ادا کر چکی ہو تو اب ان کو نفل حج و عمرہ کے لئے نہیں جانا چاہئے،کیونکہ وہاں بے پردگی عام ہے۔اگرچہ وہ خود باپردہ کیوں نہ ہو۔ کیا ایسی حالت میں ان کے لئے نفل حج و عمرہ کے لئے جانے کی شرعا کیسا ہے؟مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 24193

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1153=906-8/1431

    شریعت نے عورت کو بغیر محرم کے حج ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے بلکہ اگر محرم میسر نہ ہو تو اس پر حج کی ادائیگی فرض نہیں ہوتی اورتادم مرگ محرم کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں حج بدل کرانے یا اس کی وصیت کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیز جو امور خاص حج کے تعلق سے فرض واجب ہیں مثلاً قیام منیٰ، وقوف عرفہ ومزدلفہ، تینوں قسم کے طواف انھیں محرم کی معیت میں اگر جلد بازی کا جوش نہ ہو تو بسہولت ادا کیا جاسکتا ہے اور پردہ کا اہتمام بھی باقی رہ سکتا ہے، رمی بھی ان اوقات میں کی جائے جب بھیڑ کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نمازوں کے لیے مسجد حرام میں حاضری عورتوں کے لیے غیرضروری ہی نہیں بلکہ ممنوع ہے، لہٰذا حج کے فرائض وواجبات کی ادائیگی پردہ کے ساتھ محرم کی معیت میں ادا کرنا ممکن ہے، لہٰذا حج بدل کی اجازت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ حاجیوں کو ان امور سے واقف کرانے کی بہت ضرورت ہے، بالخصوص عورتوں کو جو ان کے لیے حج میں ضروری ہیں، اور جو غیرضروری بلکہ ممنوع ہیں عورتیں بالخصوص اس کا اہتمام کرلیں۔ تو کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
    (۲) ممانعت کی بات تو نہیں کہی جاسکتی، البتہ نفل کا درجہ تو نفل ہی کا ہوتا ہے جسے کسی مصلحت سے ترک کرنے کا اختیار بھی انسان کو ہوتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند