• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 23522

    عنوان: کچھ سال پہلے میں عمرہ کے لیے گیا تھا۔جدہ ایئر پورٹ میں جب کہ میں احرا م میں تھا ، میں ایک فون کیا ، اس کے لیے مجھے ایک سکہ ڈالنا پڑاتھا، کال پوری ہونے کے بعد میں نے اس سکہ کو واپس لے لیا، جب کہ یہ فون ہی میں رہنا چاہئے تھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ میرا سکہ اٹھانا دراصل چوری کرنا تھا، کیا میں صحیح کہہ رہاہوں؟ اب مجھے کیا کرنا چاہئے چونکہ میں حالت احرام میں تھا؟ کیا مجھے صدقہ کرنا چاہئے یا دم؟اس سکہ کی قیمت تقریبا ایک یا دو ریال تھی۔اسی درمیان میں اپنی بیوی کے ساتھ حج پر گیا، کسی نے بیوی کا پرس چوری کرلیا جس میں تقریبا دو لاکھ روپئے تھے اور جہازکا ٹکٹ بھی تھا جس کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی ۔

    سوال: کچھ سال پہلے میں عمرہ کے لیے گیا تھا۔جدہ ایئر پورٹ میں جب کہ میں احرا م میں تھا ، میں ایک فون کیا ، اس کے لیے مجھے ایک سکہ ڈالنا پڑاتھا، کال پوری ہونے کے بعد میں نے اس سکہ کو واپس لے لیا، جب کہ یہ فون ہی میں رہنا چاہئے تھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ میرا سکہ اٹھانا دراصل چوری کرنا تھا، کیا میں صحیح کہہ رہاہوں؟ اب مجھے کیا کرنا چاہئے چونکہ میں حالت احرام میں تھا؟ کیا مجھے صدقہ کرنا چاہئے یا دم؟اس سکہ کی قیمت تقریبا ایک یا دو ریال تھی۔اسی درمیان میں اپنی بیوی کے ساتھ حج پر گیا، کسی نے بیوی کا پرس چوری کرلیا جس میں تقریبا دو لاکھ روپئے تھے اور جہازکا ٹکٹ بھی تھا جس کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی ۔

    جواب نمبر: 23522

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1381=1021-7/1431

    (۱) سچی پکی توبہ اور اصلاح واجب ہے، ایسی حرکت آئندہ ہرگز نہ کی جائے دم تو واجب نہیں، مگر جو سکہ واجب الاداء واپس لے لیا اس کے بقدر کسی صورت سے خزانہٴ حکومت میں پہنچادیں اور کوئی سبیل نہ ہوسکے تو اسی سکہ (ریال) کے بقدر فقراء حرمین پر خرچ کردیں یا کسی کے توسط سے کرادیں، اگر ریال کا نظم نہ ہوسکے تو جتنے ریال واپس لیے تھے ان کی موجودہ قیمت پاکستانی روپئے سے محسوب کرکے اپنے یہاں کے غرباء پر صرف کردیں۔
    (۲) اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پ۲ رکوع۳ اس آیت مبارکہ کو آپ اور آپ کی اہلیہ کثرت سے پڑھتے رہیں اور دعا کا اہتمام بھی کرتے رہیں، اللہ پاک نعم البدل عطا فرمائے اور تمام پریشانیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند