• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 2331

    عنوان:

    (۱) میرے بہنوئی کی فیملی جدہ، سعودی عرب میں ہے، وہ سب یہ جانناچاہتے ہیں کہ کیا ہم شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ کے مہینے میں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے ایصال ثواب کے لیے عمر ہ کر سکتے ہیں؟ (۲) عصر کے وقت احرام باندھنے کے بعد عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے دو رکعات نفل پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

     

    سوال:

    (۱) میرے بہنوئی کی فیملی جدہ، سعودی عرب میں ہے، وہ سب یہ جانناچاہتے ہیں کہ کیا ہم شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ کے مہینے میں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے ایصال ثواب کے لیے عمر ہ کر سکتے ہیں؟

    (۲) عصر کے وقت احرام باندھنے کے بعد عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے دو رکعات نفل پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

     

    جواب نمبر: 2331

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 594/ ل= 594/ ل

     

    (۱) ان مہینوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے کسی بھی مہینے میں دوسرے کے نام عمرہ کرکے ان کو اس کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے: الأصل في ھذا الباب أن الإنسان لہ أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاة أو صومًا أو صدقة أو غیرھا․․․ وفي الحج النفل تجوز الإنابة حالة القدرة لأن باب النفل أوسع (ھدایة: ج۱ ص۲۹۶)

    (۲) عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے نفل پڑھنا ناجائز ہے اس لیے اس وقت میں اگر کوئی احرام باندھتا ہے تو وہ نفل کے بغیر احرام کی نیت کرلے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند