• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 19717

    عنوان:

    میں اگلے مہینہ کویت سے سعودی عمرہ اورنکاح کے لیے جاؤں گا ان شاء اللہ۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ پہلے مکہ جا کر عمرہ کرلیں پھر جدہ میں نکاح ہوگا۔ (۱)کیا میں جدہ سے واپس مکہ میں بغیر عمرہ کی نیت کے داخل ہوسکتا ہوں یا مجھے دوبارہ عمرہ کرنا پڑے گا؟ (۲)جو لوگ روڈ کے ذریعہ عمرہ کے لیے جاتے ہیں انھیں گاڑیاں حدود حرم سے باہر کھڑی کرنی پڑتی ہے۔ ہم پہلے ایک مرتبہ عمرہ کے لیے گئے تھے تو عمرہ ادا کرنے کے بعد ہم کچھ سامان گاڑی سے لینے کے لیے پارکنگ کی جگہ گئے تھے۔ واپسی پر مسجد عائشہ بھی گزرے لیکن ہم نے احرام نہیں باندھا۔ کیا ہمیں دوسرے عمرہ کا احرام باندھنا چاہیے تھا؟ یہ آٹھ یا نو سال پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد ہم بہت مرتبہ عمرہ کے لیے گئے ہیں۔

    سوال:

    میں اگلے مہینہ کویت سے سعودی عمرہ اورنکاح کے لیے جاؤں گا ان شاء اللہ۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ پہلے مکہ جا کر عمرہ کرلیں پھر جدہ میں نکاح ہوگا۔ (۱)کیا میں جدہ سے واپس مکہ میں بغیر عمرہ کی نیت کے داخل ہوسکتا ہوں یا مجھے دوبارہ عمرہ کرنا پڑے گا؟ (۲)جو لوگ روڈ کے ذریعہ عمرہ کے لیے جاتے ہیں انھیں گاڑیاں حدود حرم سے باہر کھڑی کرنی پڑتی ہے۔ ہم پہلے ایک مرتبہ عمرہ کے لیے گئے تھے تو عمرہ ادا کرنے کے بعد ہم کچھ سامان گاڑی سے لینے کے لیے پارکنگ کی جگہ گئے تھے۔ واپسی پر مسجد عائشہ بھی گزرے لیکن ہم نے احرام نہیں باندھا۔ کیا ہمیں دوسرے عمرہ کا احرام باندھنا چاہیے تھا؟ یہ آٹھ یا نو سال پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد ہم بہت مرتبہ عمرہ کے لیے گئے ہیں۔

    جواب نمبر: 19717

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 345=282-3/1431

     

    (۱) آپ پہلے کویت کے راستہ پر میقات سے احرام باندھ کر مکة المکرمة (زادہا اللہ شرفا وکرامةً وہیبةً) پہنچیں اور عمرہ سے فراغ پر جدہ میں نکاح کرلیں یہ صورت جائز بلکہ بہت عمدہ ہے۔

    (۲) آپ مستقلاً کویت میں رہتے ہیں اور عمرہ کرکے جدہ چلے جائیں، اور پھر جدہ سے بغیر احرام مکہ المکرمہ میں داخل ہوں تو جائز ہے، البتہ ایسی صورت میں اچھا یہی ہے کہ جدہ سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرلیں اورعمرہ سے محروم نہ ہوں نہ معلوم پھر یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو۔

    (۳) مسجد عائشہ پر گذرنے کی وجہ سے احرام لازم نہ ہوا، نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی دم وغیرہ واجب ہوا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند