• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 18147

    عنوان:

    میرا ایک دوست سعودی میں دو مہینہ کی ایرلائن کی نوکری پر گیا ہے وہ وہاں پر حج کرنا چاہتا ہے کمپنی کی طرف سے بھی اجازت ہے۔ سعودی کی حکومت ایک پرمٹ جاری کرتی ہے چار سو ریال کی جس کے بعد حج کی اجازت ہوتی ہے یا پھر دو یا چار ہزار ریال کا ہوتا ہے جس میں ہوٹل بھی ہوتا ہے۔ اب اگر اس دوست کو چار سو ریال کا پرمٹ نہیں مل پاتا اور وہ دو ہزار یا چار ہزار والا برداشت نہیں کرسکتا تو وہاں اگر کسی مقامی بندے کو دو سو ریال دے دو تووہ اندر پہنچا دیتا ہے کیا اس طرح کیا گیا حج ہو جائے گا یا اسے کیا کرنا چاہیے؟

    سوال:

    میرا ایک دوست سعودی میں دو مہینہ کی ایرلائن کی نوکری پر گیا ہے وہ وہاں پر حج کرنا چاہتا ہے کمپنی کی طرف سے بھی اجازت ہے۔ سعودی کی حکومت ایک پرمٹ جاری کرتی ہے چار سو ریال کی جس کے بعد حج کی اجازت ہوتی ہے یا پھر دو یا چار ہزار ریال کا ہوتا ہے جس میں ہوٹل بھی ہوتا ہے۔ اب اگر اس دوست کو چار سو ریال کا پرمٹ نہیں مل پاتا اور وہ دو ہزار یا چار ہزار والا برداشت نہیں کرسکتا تو وہاں اگر کسی مقامی بندے کو دو سو ریال دے دو تووہ اندر پہنچا دیتا ہے کیا اس طرح کیا گیا حج ہو جائے گا یا اسے کیا کرنا چاہیے؟

    جواب نمبر: 18147

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):1841=1844-1/1431

     

    حج تو مخصوص ایام میں مخصوص افعال کی ادائیگی کا نام ہے، جو بندہ بھی ایام حج میں مکہ مکرمہ پہنچ کر ان افعال کو ادا کرلے گااس کا حج ادا ہوجائے گا، لیکن اس کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرکے خطرہ مول لینا مناسب نہیں، کوشش کیجیے کہ حکومت کی طرف سے پرمٹ حاصل ہوجائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند