• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 149467

    عنوان: حج کے دوران پیر میں شدید درد کی وجہ سے میں نے صرف سعی پانچ چکر ہی کیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

    سوال: میں نے اور میری والدہ نے ۲۰۰۷ء میں حج کیا تھا، دسویں تاریخ شیطان کو کنکر مارنے کے بعد ہی ہم نے طواف زیارت کیا اور اس کے بعد سعی، آپریشن کی وجہ سے میرے سیدھے پیر میں راڈ ڈالی ہوئی ہے، پیر میں شدید درد کی وجہ سے میں نے صرف سعی پانچ چکر ہی کیا اور میری والدہ نے بھی، تو اس کا کیا کفارہ ہوگا؟ ان شاء اللہ اس رمضان میں عمرہ پر جارہا ہوں اس لیے جو بھی میرے ذمہ کفارہ ہوگا وہیں ادا کردوں گا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں، کرم ہوگا۔

    جواب نمبر: 149467

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 538-482/N=6/1438

    صورت مسئولہ میں اگر آپ نے اور آپ کی والدہ نے ۲۰۰۷ء کے حج میں طواف زیارت کے بعد سعی کے سات چکروں میں سے صرف پانچ چکر کیے اور دو چکر نہیں کرسکے تو آپ پر اور آپ کی الدہ پر ہر چکر کے عوض صدقہ فطر کے بہ قدر غلہ یا اس کی قیمت واجب ہے جو حرم شریف کے فقراء کو دیدی جائے یا ہندوستان میں بھی کسی فقیر کو دے سکتے ہیں؛ البتہ افضل فقراء حرم کو دینا ہے؛ لیکن بلا وجہ صدقہٴ جنایت میں تاخیر کرنا اچھا نہیں؛ اس لیے آپ لوگ ہندوستان ہی میں جلد از جلد کل چار فطرے کے بہ قدر غلہ یا اس کی قیمت ایک یا چند غریبوں کو دیدیں۔ ویجب لکل شوط …من السعي نصف صاع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، ۳:۵۹۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،قولہ: ”ومن السعي“:أي: لو ترک ثلاثة منہ أو أقل فعلیہ لکل شوط منہ صدقة الخ لباب (رد المحتار)،……، قولہ: ”أین شاء“: أي: في غیر الحرم أو فیہ ولو علی غیر أھلہ لإطلاق النص بخلاف الذبح ، والتصدق علی فقراء مکة أفضل، بحر (رد المحتار،۴: ۵۹۱، ۵۹۲)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند