• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 1071

    عنوان:

    ہم ایک آدمی کو چندوں کے پیسوں سے حج پر بھیجنا چاہتے ہیں ، وہ آدمی کافی دنوں سے بچوں کو دینی تعلیم دے رہا ہے۔ وہ آدمی اپنی فیملی کے ساتھ کرایہ کے مکان پر رہتا ہے اور اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کیا وہ اس صورت میں حج کرسکتا ہے؟

    سوال:

    ہم ایک آدمی کو چندوں کے پیسوں سے حج پر بھیجنا چاہتے ہیں ، وہ آدمی کافی دنوں سے بچوں کو دینی تعلیم دے رہا ہے۔ وہ آدمی اپنی فیملی کے ساتھ کرایہ کے مکان پر رہتا ہے اور اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کیا وہ اس صورت میں حج کرسکتا ہے؟

    جواب نمبر: 1071

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  414/م = 417/م)

     

    چند افراد یا کوئی ایک فرد اپنی خوشی سے کسی نادار شخص کو اپنے خرچ پر حج کرانے کی ذمہ داری لے لے یا رقم عنایت کردے تو جائز ہے نیت کے مطابق اس کو اجر و ثواب ملے گا۔ اور رقم قبول کرنے سے اس نادار شخص پر حج فرض ہوجائے گا۔ البتہ اس شخص کو از خود چندہ کی اپیل نہیں کرنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند