• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 610065

    عنوان:

    ’’المرأ مع من أحب‘‘ کے متعلق ایک سوال

    سوال:

    ایک حدیث کا مفہوم ہے قیامت کے دن آدمی اس کیساتھ ہو گا جس سے اس کو محبت ہے ویسے تو مجھے تمام انبیاءصحابہ و اہلبیت ؓ اولیاء اللہ سب سے محبت ہے خاص اللّٰہ رب العزت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ سے اور جو بھی مجھے عزیز ہیں تو کیا یہ میرے ساتھ ہوں گے محبت کی وجہ سے قیامت میں اور کیا قیامت کا مطلب جنت ہےمیں واقع ہی میں ان کے ساتھ ہوں گا۔ محمدعمیررانا بن عبدالقیوم پاکستان سیت پور سے ناچیز سیاہ کار کی رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 610065

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 983-864/L=8/1443

     اس حدیث میں محبت سے مراد قلبی لگاؤ اور ان كی اتباع ہے ؛ لہذا جو شخص ان حضرات سے خصوصی تعلق ومحبت ركھے گا اپنے عادات واطوار كو ان كے مطابق ڈھالے گا تو اللہ تعالی قیامت كے دن اس كے اس اخلاص ومحبت كی وجہ سے ان كا رفیق ودوست بنادیں گے ؛ البتہ علماء نے صراحت كی ہے كہ دوست بنانے سے یہ مراد نہیں ہے كہ وہ بھی انہی كے درجہ كو پہونچ جائے گا یہ ممكن ہے كہ درجات میں فرقِ مراتب ہو۔«المرء مع من أحب» ) أي: يحشر مع محبوبه، ويكون رفيقا لمطلوبه.[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 8/ 3135، ط: دار الفكر] ثم إنه لا يلزم من كونه معهم أن تكون منزلته وجزاؤه مثلهم من كل وجه.[شرح النووي على مسلم 16/ 186](المرء مع من أحب) قال ابن العربي: يريد المصطفى صلى الله عليه وسلم في الدنيا بالطاعة والأدب الشرعي وفي الآخرة بالمعاينة والقرب الشهودي فمن لم يتحقق بهذا وادعى المحبة فدعواه كاذبة.[فيض القدير 6/ 266] (المرء مع من أحب) يعني من أحب قوما بالإخلاص يكون من زمرتهم وإن لم يعمل عملهم لثبوت التقارب بين قلوبهم وربما تؤدي تلك المحبة إلى موافقتهم.[تحفة الأحوذي 7/ 53، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند