• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 607895

    عنوان:

    سونے سے پہلے مسنون اذکار

    سوال:

    سونے کی دعا کے علاوہ سونے سے قبل کیا مسنون و مستحب اذکار ہیں، سردیوں میں سوتے وقت منہ ڈھانپ لیا جاتا ہے ، کیا بستر پر لیٹے اور منہ ڈھانپے ،ذکر و اذکار و قرآنی آیات کی دل میں تلاوت کی جا سکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 607895

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:518-464/L=5/1443

     سونے سے پہلے مسنون اور مستحب اعمال بہت ہیں منجملہ ان میں سے بعض کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے ، بستر پر لیٹنے اور منھ ڈھانپنے کے بعد بھی ذکر واذکار یا قرآنی آیات زبان یا دل سے پڑھ سکتے ہیں۔سونے سے پہلے کے اعمالِ مسنونہ درج ذیل ہیں:

    (۱) عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: شَکَتْ إِلَیَّ فَاطِمَةُ مَجْلَ یَدَیْہَا مِنَ الطَّحِینِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَیْتِ أَبَاکِ فَسَأَلْتِہِ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّکُمَا عَلَی مَا ہُوَ خَیْرٌ لَکُمَا مِنَ الخَادِمِ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَکُمَا تَقُولَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ مِنْ تَحْمِیدٍ وَتَسْبِیحٍ وَتَکْبِیرٍ. (سنن الترمذی،رقم: 3408، باب ما جاء فی التسبیح والتکبیر والتحمید عند المنام)

    (۲) عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ، أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ المُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ یَرْقُدَ وَیَقُولُ: إِنَّ فِیہِنَّ آیَةً خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ آیَةٍ (سنن الترمذی، رقم:2921)

    (۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذَ أَحَدُنَا مَضْجَعَہُ أَنْ یَقُولَ: اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ، وَرَبَّ الأَرَضِینَ، وَرَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِیلِ وَالقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ، وَالظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ، وَالبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْءٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الفَقْرِ (سنن الترمذی، رقم:3400)

    (۴) وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَأْخُذُ مَضْجَعَہُ، یَقْرَأُ سُورَةً مِنْ کِتَابِ اللَّہِ، إِلَّا وَکَّلَ اللَّہُ بِہِ مَلَکًا، فَلَا یَقْرَبُہُ شَیْءٌ یُؤْذِیہِ حَتَّی یَہُبَّ مَتَی ہَبَّ (سنن الترمذی، رقم:3407)

    (۵) عَنْ أَبِی لُبَابَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَنَامُ حَتَّی یَقْرَأَ الزُّمَرَ، وَبَنِی إِسْرَائِیلَ (سنن الترمذی ، رقم:3405)

    (۶) عَنْ حُذَیْفَةَ بْنِ الیَمَانِ: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَضَعَ یَدَہُ تَحْتَ رَأْسِہِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ - أَوْ تَبْعَثُ - عِبَادَکَ (سنن الترمذی ، 3398)

    نوٹ:اگر آپ عالم نہ ہوں تو کسی عالم سے احادیث پڑھواکر سمجھ لیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند