• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 604188

    عنوان:

    كیا حدیث میں ’’سردرد نہ ہونے کو جہنمی ہونے کی علامت بتایا گیا ہے’’ ؟

    سوال:

    سردرد_اھل_جنت_کی_نشانی!! ابو ھریرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ایک دیہاتی سے نبی کریم ﷺ نے سوال کیا: *"کیا تجھے کبھی ام ملدم نے پکڑا ہے ؟"* اس نے کہا : ام ملدم کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : *"جلد اور گوشت کے درمیان حرارت و گرمی (یعنی بخار) ۔* اس نے کہا : نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: *کیا تجھے کبھی صداع ہوا ہے ؟"* اس نے کہا صداع کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : *"ایک ہوا ہے جو سر میں گھس جاتی ہے اور رگوں پر ضرب لگاتی ہے (یعنی سردرد)۔* اس نے کہا: نہیں (ایسا کبھی نہیں ہوا )۔ راوی کہتے ہے : جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: *"جسے پسند ہو کہ وہ کسی دوزخی کو دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے ۔"* المستدرک (1/347)، الادب المفرد (495) اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: *نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو جسے بخار اور سر درد نہ ہو جھنمیوں میں سے شمار کیا ہے اور بخار اور سردرد نہ ہونے کو جھنمیوں کی جبکہ بخار آنے اور سردر ہونے کو جنتیوں کی نشانی بتایا ہے * مجموع رسائل ابن رجب (2 / 380) اسی طرح آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : وصداع الرأس من علامات أہل الإیمان وأہل الجنة. *سردرد اھل ایمان اور اھل جنت کی نشانی ہے * لطائف المعارف: 105

    جواب نمبر: 604188

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:704-761/N=1/1443

     مومن کو جو بخار یا سر درد ہوتا ہے یا کوئی بھی چھوٹی بڑی بیماری یا تکلیف ہوتی ہے، وہ اُس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اور اس کے ذریعے جہنم میں ہوسکنے والا عذاب ختم ہوجاتا ہے؛ اس لیے اگر کسی ایمان والے کو بخاروغیرہ ہو اور اس میں کوئی ایسا گناہ نہ ہو، جس کے لیے بخار وغیرہ کفارہ نہ ہوسکے تو یہ بخار وغیرہ اُس کے جنتی ہونے کی علامت ہے ، اور حدیث میں کسی خاص شخص کے جہنمی ہونے کا جو تذکرہ ہے، وہ اُسی کے ساتھ خاص ہے ، یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ طور خاص اُس شخص کا جہنمی ہونا بتلایا گیا تھا، پس محض بخار یا سر درد نہ ہونے سے کسی کو جہنمی کہنا یا سمجھنا درست نہ ہوگا، اس موضوع پر حافظ ابن رجب حنبلی کا ایک مستقل رسالہ ہے، جس کا نام ہے: البشارة العظمی للموٴمن بأن حظہ من النار الحمی، اس رسالہ میں حافظ نے موضوع سے متعلق روایات کی روشنی میں کلام فرمایا ہے، پس اس کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند