• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 604139

    عنوان:

    كیا یہ صحیح ہے كہ جب حضرت آدم علیہ السلام كے اندر روح ڈالی جارہی تھی تو ان كو چھینك آئی تو انھوں نے الحمد للہ كہا

    سوال:

    میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ جب آدم علیہ السلام کے اندر روح ڈالی جا رہی تھی تو اسی وقت ان کو چھینک آئی تو آدم علیہ السلام نے الحَمدُ اللہ کہا۔ برائے مہربانی اِس پر تھوڑی روشنی ڈالیں۔

    جواب نمبر: 604139

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:825-690/L=9/1442

     یہ حدیث ترمذی شریف میں ہے : جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جب آدم علیہ السلام کو پید کیا اور ان کے اندر روح ڈالی تو ان کو چھینک آئی تو آدم علیہ السلام نے ” الحمدللہ“ کہا تو اللہ رب العزت نے ”رحمک اللہ یا آدم“ کہا پھر آدم علیہ السلام کو اشارہ کیا کہ آپ فرشتوں کی جماعت جو بیٹھی ہوئی ہے ان کے پاس جائیں اور ان کو ”السلام علیکم “ کہیں(تو وہ گئے اور فرشتوں کو سلام کیا) تو فرشتوں نے اس کے جواب میں ”وعلیک السلام ورحمة اللہ “ کہا پھرآدم علیہ السلام اللہ رب العزت کی طرف لوٹ کر آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا :یہ تیرا اور تیرے بعد میں آنے والی اولاد کا سلام ہے ۔

    عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " لما خلق اللہ آدم ونفخ فیہ الروح عطس فقال: الحمد للہ، فحمد اللہ بإذنہ، فقال لہ ربہ: رحمک اللہ یا آدم، اذہب إلی أولئک الملائکة، إلی ملإ منہم جلوس، فقل: السلام علیکم، قالوا: وعلیک السلام ورحمة اللہ، ثم رجع إلی ربہ، فقال: إن ہذہ تحیتک وتحیة بنیک․ (سنن الترمذی رقم: 3368)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند