• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 603518

    عنوان:

    امت كا مصداق كیا ہے؟

    سوال:

    ایک حدیث میں نے سنی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ میری امت کبھی جھوٹ پر جمع نہی ہو سکتی۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟وسری بات اگر یہ کہ امت سے مراد کیا ہے ؟ کیا امت صرف علماء ہے یا امت میں علماء کے ساتھ عوام بھی شامل ہیں یعنی سارے مسلمان امت میں داخل ہیں ؟

    جواب نمبر: 603518

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:681-664/L=9/1442

     حدیث مشکاة اور ترمذی میں موجود ہے ، الفاظ یہ ہیں:

    وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ لا یجمع أمتی أو قال: أمة محمد علی ضلالة وید اللہ علی الجماعة ومن شذ شذ فی النار․ رواہ الترمذی․

    ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو یا فرمایا امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا․․․ (مشکاة، ص:۳۰باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ط: یاسر ندیم اینڈ کمپنی دیوبند)۔

    حدیث میں امت سے مراد "امت اجابت" ہے ۔ اور اجماع سے علماء و فقہاء کا اجماع مراد ہے ۔ عوام کے اجماع کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

    وَقَالَ ابْنُ الْمَلَکِ: الْمُرَادُ أُمَّةُ الْإِجَابَةِ، أَیْ: لَا یَجْتَمِعُونَ عَلَی ضَلَالَةٍ غَیْرَ الْکُفْرِ، وَلِذَا ذَہَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی أَنَّ اجْتِمَاعَ الْأُمَّةِ عَلَی الْکُفْرِ مُمْکِنٌ بَلْ وَاقِعٌ إِلَّا أَنَّہَا لَا تَبْقَی بَعْدَ الْکُفْرِ أُمَّةٌ لَہُ وَالْمَنْفِیُّ اجْتِمَاعُ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ عَلَی الضَّلَالَةِ، وَإِنَّمَا حَمَلَ الْأُمَّةَ عَلَی أُمَّةِ الْإِجَابَةِ لِمَا وَرَدَ أَنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ إِلَّا عَلَی الْکُفَّارِ، فَالْحَدِیثُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ اجْتِمَاعَ الْمُسْلِمِینَ حَقٌّ، وَالْمُرَادُ إِجْمَاعُ الْعُلَمَاءِ، وَلَا عِبْرَةَ بِإِجْمَاعِ الْعَوَامِّ لِأَنَّہُ لَا یَکُونُ عَنْ عِلْمٍ. (مرقاة المفاتیح، ۰۶۲/۱، ط: دار الفکر).

    نوٹ: حدیث میں جھوٹ کی جگہ گمراہی کے الفاظ آئے ہیں، یعنی میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، اس اعتبار سے جواب لکھا گیا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند