• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 602804

    عنوان:

    ریح میں اگر بدبو یا آواز نہ ہو جب بھی وضو ٹوٹ جائے گا؟

    سوال:

    وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے کافی لوگ کہتے ہیں کہ پاخانے والی جگہ سے ہوا نکل جائے تو وضو ٹوٹ جاتا اگر اس حوا کا آواز یا بو نا بھی ائے تب بھی وضو نہیں رہتا ۔لیکن میں نے ایک موبائل ایپ جس کا نام اسلام 360 ہے اس پر ایک حدیث دیکھی وہ حدیث اس طرح ہے حَدَّثَنَا عَلِیٌّ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ․ ح وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ عَمِّہِ ، أَنَّہُ شَکَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ الَّذِی یُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہُ یَجِدُ الشَّیْءَ فِی الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : لَا یَنْفَتِلْ أَوْ لَا یَنْصَرِفْ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیحًا ۔ ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے ، ان سے زہری نے سعید بن المسیب کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبادہ بن تمیم سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے چچا (عبداللہ بن زید) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز ( یعنی ہوا نکلتی ) معلوم ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نماز سے ) نہ پھرے یا نہ مڑے ، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے ۔/برائے مہربانی اس بارے رہنمائی کریں

    جواب نمبر: 602804

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 580-429/B=07/1442

     جب تک آواز نہ سنے یا بدبو نہ پائے، کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یقین نہ ہوجائے۔ چونکہ بظاہر آواز سے اور بدبو سے یقینی پتہ چلتا ہے ہوا خارج ہونے کا۔ اس لئے اِن دونوں کا ذکر کردیا گیا۔ یہ دو چیزیں بطور مثال کے ذکر کی گئی ہیں۔ اگر کسی کو ہوا خارج ہونے کا یقین ہو لیکن اس کی ہوا میں بدبو یا آواز نہ ہو جب بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کسی کو خارج ہونے نہ ہونے کا شک ہوگیا تو محض شک کی وجہ سے نماز نہ توڑے یقین کا غالب گمان ہوجائے جب نماز توڑے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند