• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 601468

    عنوان:

    كیا خبر واحد مطلق ایک خبر ہونے کی وجہ سے رد كی جاسكتی ہے؟

    سوال:

    خبر واحد صحیح حدیث کے متعارض کوئی روایت آثار صحابہ نہ ہو تو اس پر عمل ہوگا؟

    جواب نمبر: 601468

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:359-423/L=6/1442

     خبر واحد مطلق ایک خبر ہونے کی وجہ سے رد نہیں کی جاسکتی، اگر روایت صحیح اور مستند ہواور وہ کسی روایت وآثار کے معارض بھی نہ ہو تو وہ حدیث قابل حجت اور قابلِ عمل ہوگی۔

    فی التوضیح لشرح الجامع الصحیح: وانعقد الإجماع علی القول بالعمل بأخبار الآحاد.و فی الہامش: قال الغزالی فی "المستصفی" ص118: ہو رأی جماہیر من سلف الأمة عن الصحابة والتابعین، والفقہاء والمتکلمین. ونقل البعلی فی "مختصر الروضة" ص102، عن أبی الخطاب، قال: العقل یقتضی قبول خبر الواحد؛ لأمور ثلاثة: أحدہا: أنَّا لو قصرنا علی العمل علی القطع، تعطلت الأحکام لندرة القواطع، وقلة مدارک الیقین. الثانی: أن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - مبعوث إلی الأمة کافة، ولا یمکنہ مشافہة الجمیع، ولا إبلاغہم بالتواتر. الثالث: أنَّا إذا ظننا صدق الراوی، ترجح وجود أمر الشارع والاحتیاط العمل بالراجح. (۰۴۱/۳۳، ط: دار النوادر).حکم الحدیث الصحیح أنہ مقبول، وحجة ویجب العمل بہ. ووجوب العمل بخبر الواحد الصحیح ہو مذہب العلماء قدیما وحدیثا. (الوسیط فی علوم و مصطلح الحدیث، ص ۰۳۲، ط: دار الفکر).اعلم أن خبر الواحد إذا ورد مخالفا لمقتضی العقل.فإن أمکن تأویلہ من غیر تعسف یقبل التأویل الصحیح وإن لم یمکن تأویلہ إلا بتعسف لم یقبل؛ لأنہ لو جاز التأویل مع التعسف لبطل التناقض من الکلام کلہ ویجب فیما لا یمکن تأویلہ القطع علی أن النبی - علیہ السلام - لم یقلہ إلا حکایة عن الغیر أو مع زیادة أو نقصان وإن کان مخالفا لنص الکتاب أو للسنة المتواترة أو للإجماع فکذلک؛ لأن ہذہ الأدلة قطعیة وخبر الواحد ظنی ولا تعارض بین القطعی والظنی بوجہ بل الظنی یسقط بمقابلة القطعی․ (کشف الأسرار۹/۳)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند