• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 601144

    عنوان:

    ذنب العالم ذنب واحد الحدیث کی تحقیق

    سوال:

    مندرجہ ذیل حدیث کی صحت و سند کیسی ہے ۔ عالم اور جاہل کے گناہ میں فرق ۲۴۳۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ذَنْبُ الْعَالِمِ ذَنْبٌ وَّاحِدٌ وَ ذَنْبُ الْجَاہِلِ ذَنْبَانِ، قِیْلَ : وَ لِمَ یا رسول اللہ ؟ قال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : ألْعَالِمُ یُعَذَّبُ عَلیٰ رُکُوْبِہِ الذَّنْبَ، ۲۴۲۔ المعجم الکبیر للطبرانی ، /۸ ۲۰۲ # الجامع الصغیر للسیوطی ، /۱ ۲۱۴ ۲۴۳۔ مسند الفردوس للدیلمی ، /۲ ۲۴۸ # کنز العمال للمتقی ، ۲۸۷۸۴، ۱۰ / ۱۵۳الجامع الصغیر للسیوطی، ۲۶۴/۱ # وَالْجَاہِلُ عَلیَ رُکُوْبِہِ الذَّنْبَ وَ عَلیٰ تَرْکِ التَّعْلُّمِ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دو ۔ کسی نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! علیک الصلوٰة والسلام ، کس لئے ؟ فرمایا : عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا ۔ اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کا اور دوسرا نہ سیکھنے کا ۔

    جواب نمبر: 601144

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:238-207/sn=4/1442

     علامہ مناوی نے فیض القدیر میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حدیث میں ایک راوی ہے : جویبر بن سعید، جنھیں علامہ ذہبی نے دارقطنی کے حوالے سے " متروک" قرار دیا ہے ۔اور اسی راوی کی بنا پر بعض حضرات نے اس حدیث کو ضعیف اور بعض نے "ضعیف جدا" کہا ہے ۔

    - (ذنب العالم واحد وذنب الجاہل ذنبان)....(فر عن ابن عباس) وفیہ جویبر بن سعید قال الذہبی: قال الدارقطنی وغیرہ متروک.[فیض القدیر 3/ 565، رقم: 4335، مطبوعة: دارالمعرفة، بیروت)

    (ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاہل ذنبان) بقیة الحدیث قیل ولم یا رسول اللہ قال العالم یعذب علی رکوبہ الذنب والجاہل یعذب علی رکوبہ الذنب وترک التعلم (فر عن ابن عباس) بإسناد ضعیف.[التیسیر بشرح الجامع الصغیر 2/ 20)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند