• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 600285

    عنوان: كیا مسجد محلہ میں دوسری، تیسری جماعت کرنے کا حکم حدیث سے ثابت ہے؟

    سوال:

    مسجد میں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت بنا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی اور صحابی رسول ثابت ہے؟

    براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 600285

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:99-44T/N=4/1442

     مسجد محلہ (جس میں متعینہ امام وموٴذن اور کچھ مقتدیوں کے ساتھ پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو)میں نماز پنجگانہ اور جمعہ سب میں دوسری یا تیسری جماعت مکروہ ہے اگرچہ دوسری جماعت بلا اذان واقامت اور پہلی ہیئت سے ہٹ کر ہو ، راجح ومفتی بہ قول یہی ہے (عزیز الفتاوی، ص: ۲۰۸، جواب سوال: ۲۳۴، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، امداد الاحکام، ۲: ۱۱۱،فصل فی الإمامة والجماعة، سوال:۱، مکتوبہ: ۲۲/ ربیع الثانی ۱۳۴۰ھ، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند، بہشتی زیور مدلل، ۱۱: ۵۵، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم، سہارن پور، فتاوی محمودیہ، ۲۲: ۸۲، ۸۳، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔ایک مرتبہ حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضرات انصار کے کے دو قبیلوں کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے اور جب واپس تشریف لائے تو مسجد نبوی میں جماعت ہوچکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی زوجہ مطہرہ  کے مکان میں نماز باجماعت ادا فرمائی، مسجد میں جماعت ثانیہ قائم نہیں فرمائی۔اور اگر مسجد محلہ میں دوسری، تیسری جماعت کا معمول بنالیا جائے تو کراہت میں مزید شدت آجائے گی۔

    کفایت المفتی میں ہے:

    ”جس مسجد میں کہ پنج وقتہ جماعت اہتمام و انتظام سے ہوتی ہو، اس میں امام ابوحنیفہ کے نزدیک جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے؛ کیوں کہ جماعت در اصل پہلی جماعت ہے، اور مسجد میں ایک وقت کی فرض نماز کی ایک ہی جماعت مطلوب ہے۔حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک اور خلفائے اربعہ وصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں مساجد میں صرف ایک ہی مرتبہ جماعت کا معمول تھا، پہلی جماعت کے بعد پھر جماعت کرنے کا طریقہ اور رواج نہیں تھا۔دوسری جماعت کی اجازت دینے سے پہلی جماعت میں نمازیوں کی حاضری میں سستی پیدا ہوتی ہے اور جماعت اولی کی تقلیل لازمی ہوتی ہے؛ اس لیے جماعت ثانیہ کو حضرت امام صاحب نے مکروہ فرمایا اور اجازت نہ دی۔اور جن ائمہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی اتفاقی طور پر جماعتِ اولی سے رہ جانے والوں کو اس طور سے اجازت دی کہ وہ اذان واقامت کا اعادہ نہ کریں اور پہلی جماعت کی جگہ بھی چھوڑ دیں تو خیر پڑھ لیں؛ لیکن روزانہ دوسری جماعت مقرر کرلینا اور اہتمام کے ساتھ اس کو ادا کرنا اور اس کے لیے تداعی، یعنی لوگوں کو بلانا اور ترغیب دینا یہ تو کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں، نہ اس کے لیے کوئی فقہی عبارت دلیل بن سکتی ہے، یہ تو قطعا ممنوع اور مکروہ ہے“ (کفایت المفتی، ۳: ۱۴۰، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)۔

    اور اگر کوئی راستہ کی مسجد ہو، جو آبادی سے دور کسی راستہ پر مسافروں کے لیے بنادی گئی اور اس میں مسافر حضرات نماز پڑھ لیتے ہیں اور وہاں کوئی متعینہ امام و موٴذن وغیرہ نہیں ہے تو ایسی مسجد میں دوسری یا تیسری جماعت میں کچھ حرج نہیں۔

    ویکرہ تکرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة، لا في مسجد طریق إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۲۸۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۵۰۳، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔ قولہ: ”ویکرہ “أي : تحریماً لقول الکافي: لایجوز، والمجمع: لا یباح، وشرح الجامع الصغیر:إنہ بدعة کما في رسالة السندي (رد المحتار)۔

    تنبیہ :تکرار الجماعة مکروہ في ظاہر الروایة کراھة تحریم لما قال فی الکافي:إنہ لا یجوز، وفي شرح المجمع :لا یباح، وفي شرح الجامع الصغیر: بدعة کذا فی الدر۔ وفی الدر أیضا : ما اتفق علیہ أصحابنا فی الروایات الظاھرة یفتی بہ قطعاً اھ (غنیة الناسک (ص ۵۱، ۵۲، ط: قدیم)۔

    وکذلک تکرہ تحریماً من غیر إعادتھما عند أبي حنیفة، وھو ظاھر الروایة کما في رد المحتار (۱: ۵۱۷) (باب الإمامة)، وفي (ص ۳۶۷) من الأذان حکاہ عن الظھیریة۔ وفي روایة شاذة عن أبي یوسف أنہ لا تکرہ إذا لم تکن الجماعة علی الھیئة الأولی ،حکاہ إبراھیم الحلبي في شرح المنیة وابن عابدین وغیرھما بلفظ: وروي عن أبي یوسف الخ (معارف السنن، ۲: ۲۸۵ط مکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    روی عبد الرحمن بن أبي بکر (الصواب: أبي بکرة کما في إعلاء السنن)عن أبیہ ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج من بیتہ لیصلح بین الأنصار، فرجع وقد صلی فی المسجد بجماعة، فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في منزل بعض أھلہ، فجمع أھلہ فصلی بھم جماعة“(رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الأذان ۲: ۶۴)۔

    قولہ: ”عن أبي بکرة إلخ“: قلت: وتقریر الاستدلال بہ علی ما في رد المحتار (۱: ۵۷۷): ولو جاز ذلک لما اختار الصلاة في بیتہ علی الجماعة في المسجد اھ، وقال بعض الناس عن التحریر المختار: ولا یتم الاستدلال بہ إلا إذا وجد جماعة یصلي بھم في المسجد، ومع ھذا اختار الصلاة في منزلہ بأھلہ اھ، قلت: کان یمکن أن یجمع الصلاة بأھلہ في المسجد دون بیتہ؛ فإن النساء کن یشھدن الصلاة فیہ مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم کما عرف في موضعہ، فالاستدلال بہ تام۔ واعلم أن ھذا الحدیث ذکرہ العلامة الشامي في رد المحتار، ولکن وقع فیہ التصحیف في اسم الصحابي، فقال: ”روی عبد الرحمن بن أبي بکر عن أبیہ إلخ“، فیتوھم منہ أنہ من روایة أبي بکر الصدیق، ولیس کذلک؛ بل ھو عن عبد الرحمن بن أبي بکرة، فقول بعض الناس: ”لم أقف علیہ، ولا أصل لہ“ مردود علیہ؛ فإن حدیث أبي بکرة أخرجہ الطبراني بسند رجالہ ثقات کما ذکرناہ في المتن (إعلاء السنن، کتاب الصلاة، أبواب الإمامة، باب کراھة تکرار الجماعة في مسجد المحلة، ۴: ۲۸۴، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة، کراتشي)۔

     (۲): مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ کے جواز میں کوئی صریح اور واضح روایت نہیں ہے (اعلاء السنن) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند