• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 48416

    عنوان: سر ڈھک کر کھانا سنت ہے اس کے لیے احادیث اور اقوال فقہاء بیان کیجیے۔

    سوال: سر ڈھک کر کھانا سنت ہے اس کے لیے احادیث اور اقوال فقہاء بیان کیجیے۔

    جواب نمبر: 48416

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 155-159/N=2/1435-U حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول ننگے سر رہنے کا نہیں تھا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) عمامہ اور ٹوپی یا صرف عمامہ یا صرف ٹوپی کا اہتمام فرماتے تھے جیسا کہ زاد المعاد (فصل فی ملابسہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۱: ۱۳۵ مطبوعہ موٴسسة الرسالة بیروت) میں ہے: اورکھانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ننگے سر رہنا ثابت نہیں اور کھانے کے ادب کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ سر پر کوئی چیز ہونی چاہیے اس لیے کھانے کے وقت ننگے سر نہ رہنا چاہیے، بلکہ ٹوپی وغیرہ لگاکر کھانا کھانا چاہیے، یہ مستحب وبہتر ہے، اور اگر کوئی ننگے سر کھاتا ہے تو ایک روایت کے مطابق مکروہ ہے لیکن مختار قول یہ ہے کہ مکروہ نہیں، البتہ خلاف اولی ہے، قال في تکملة البحر الرائق (۸: ۳۳۸ ط مکتبہ زکریا دیوبند) : والأکل مکشوف الرأس․․․ فیہ روایتان، والمختار أنہ لا یکرہ اھ وقال في الہندیة (۵: ۳۳۷ ط مکتبہ زکریا دیوبند) : ولا باس بالأکل مکشوف الرأس وہو المختار کذا في الخلاصة اھ ومثلہ في البزازیہ (مع الہندیة ۶:۳۶۵) ورد المحتار (۹: ۴۹۰ مکتبہ زکریا دیوبند) وقال في الرد (کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا ۲: ۴۳، ۴۳۱، مطلب: کلمة ”لا بأس“ دلیل علی أن المستحب غیرہ لأن البأس الشدة): قولہ: ”ولا بأس الخ“: فيہذا التعبیر کما قال شمس الأئمة إشارة إلی أنہ لا یوٴجر ویکفیہ أن ینجو رأسا برأس اھ قال فی النہایة: لأن لفظ ”لا بأس“ دلیل علی أن المستحب غیرہ لأن البأس الشدة اھ ولہذا قال في حظر الہندیة عن المضمرات: والصرف إلی الفقراء أفضل وعلیہ الفتوی اھ ․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند