• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 43593

    عنوان: حدیث و سنت میں کیا فرق ہے؟ خلا صہ کرکے بتائیں۔

    سوال: حدیث و سنت میں کیا فرق ہے؟ خلا صہ کرکے بتائیں۔

    جواب نمبر: 43593

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 253-275/D=3/1434 حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، اوصاف اور تقریرات (یعنی صحابہٴ کرام کے سامنے کسی کام کا انجام دینا، بیان کریں لیکن آپ علیہ الصلاة والسلام کا اس پر انکار کرنے کا ذکر نہ کریں) کو کہتے ہیں، الحدیث ما أضیف إلی النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- من قولٍ وفعل وتقریر (مصطلحات الحدیث ومقدمة شیخ عبد الحق) اور ”سنت“ الطریقة المسلوکة في الدین کو کہتے ہیں یعنی وہ راہِ عمل جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت کی السنة في الشریعة ہي الطریقة المسلوکة في الدین من غیر افتراض ووجوب فالسنة ما واظب صلی اللہ علیہ وسلم علیہ مع الترک أحیانا الخ (التعریفات للجرجاني: ۱/۶۱، ط: بیروت) ان تعریفوں کے لحاظ سے ”حدیث“ عام ہے، وہ سنت کو بھی شامل ہے یعنی جو چیز سنت ہوگی وہ حدیث ضرور ہوگی؛ لیکن ہرحدیث کے لیے سنت (الطریقة المسلوکة فی الدین) ہونا ضروری نہیں۔ قال الجرجانی وہي (السنة) مشترک بین ما صدر عن النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- من قول أو فعل أو تقریر وبین ما واظب النبي علیہ بلا وجوب (۱/۶۲، ط: بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند