• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 41821

    عنوان: اس حدیث کی تحقیق و تخریج بتا دیں

    سوال: السلام علیکم، کیا یہ حدیث صحیح اور قابلِ عمل ہے؟یہ حدیث المعجم الصغیر للطبرانی ج ص میں ہے ۔" سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعت اور وتر پڑھائے تو جب اگلی رات آئی ہم مسجد میں جمع ہوئے اور ہم امید کرتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلیں گے لیکن ہم صبح تک اسی انتظار میں ہی رہ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم رات مسجد میں جمع ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ تم پر فرض ہی نہ ہو جائے ۔" اس حدیث کی تحقیق و تخریج بھی بتا دیں۔

    جواب نمبر: 41821

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 984/991/N=11/1433 رکعات تراویح کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت معجم صغیر للطبرانی کے علاوہ صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں بھی موجود ہے، لیکن اس کی سند کا مدار عیسی بن جاریہ ہے جو جمہور ائمہ جرح وتعدیل کے نزدیک نہایت ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ حدیث جمہور صحابہ، ائمہ اربعہ اور جمہور علما کے نزدیک یہ آٹھ رکعت تراویح کی روایت معمول بہ نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی رحمہ اللہ کا رسالہ: ”رکعات تراویح“ (مع رد انوار مصابیح: ۱۲۵-۱۹۰ کا مطالعہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند