• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 2324

    عنوان:

    مجھے بتائیں کہ اہل سنت والجماعة ان احادیث کو صحیح یا ضعیف کیا مانتے ہیں: (۱) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو میری قبر کی زیارت کرے ، میری شفاعت اس کے لیے واجب ہوجائے گی۔ بزار، دارقطنی (۲) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے گویا اس نے میری حیات میں مجھے دیکھا۔ (۳) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو میری زیارت کرے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہ ہو ، میرے اوپر اس کی شفاعت لازم ہوجائے گی۔ (طبرانی) درج بالا احادیث کی بنیاد پر کوئی یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرکے شفاعت حاصل کی جاسکتی ہے ،خواہ وہ شخص کتنا ہی گناہ گار ہو جنت میں جائے گا۔ کیا یہ خطرناک نتیجہ عیسائیوں کے اس عقیدہ کی طرح نہیں ہے کہ حضرت عیسی پر ایمان لانے سے وہ جنت میں جائیں گے خواہ کوئی بھی گناہ کریں؟ اگر کوئی شخص احادیث بالا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر ایسا نتیجہ نکالتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

    سوال:

    مجھے بتائیں کہ اہل سنت والجماعة ان احادیث کو صحیح یا ضعیف کیا مانتے ہیں:

    (۱) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو میری قبر کی زیارت کرے ، میری شفاعت اس کے لیے واجب ہوجائے گی۔ بزار، دارقطنی

    (۲) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے گویا اس نے میری حیات میں مجھے دیکھا۔

    (۳) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو میری زیارت کرے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہ ہو ، میرے اوپر اس کی شفاعت لازم ہوجائے گی۔ (طبرانی)

    درج بالا احادیث کی بنیاد پر کوئی یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرکے شفاعت حاصل کی جاسکتی ہے ،خواہ وہ شخص کتنا ہی گناہ گار ہو جنت میں جائے گا۔ کیا یہ خطرناک نتیجہ عیسائیوں کے اس عقیدہ کی طرح نہیں ہے کہ حضرت عیسی پر ایمان لانے سے وہ جنت میں جائیں گے خواہ کوئی بھی گناہ کریں؟

    اگر کوئی شخص احادیث بالا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر ایسا نتیجہ نکالتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

    جواب نمبر: 2324

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: ۲۸۷/ ن= ۵۹۹/ ن

     

    یہ احادیث اگرچہ بعض طرق سے ضعیف ہیں، ان طرق کی بنا پر بعض حضرات نے ان پر ضعف کا حکم لگادیا ہے مگر بعض طرق سے صحیح الاسناد ہیں، اسی لیے بعض حضرات نے ان کی تصحیح کی ہے اس لیے یہ احادیث قابل حجت اور لائق اعتماد ہیں اور خاص طور سے فضائل اعمال میں باجماعِ محدثین ضعیف احادیث بھی قابل عمل و معتبر ہوتی ہیں۔ رہا آپ کا اشکال تو وہ اس لیے بیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بروزِ قیامت اہل کبائر جن کے بارے میں دوزخ کا فیصلہ ہوگیا ہوگا اورجو ایمان والے گناہوں کی بنا پر دوزخ میں جاچکے ہوں گے ان کی بھی شفاعت فرمائیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ان کے حق میں قبول کی جائے گی؛ لہٰذا زیارتِ قبر مبارک سے حصولِ شفاعت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زیارت کرنے والوں کو گناہوں کی سزا بھی نہ دی جائے گی؛ بلکہ اگر وہ بغیر توبہ کے انتقال کرگئے تو ان کو گناہوں کی سزا دی جائے گی اور بہت سے گنہگار مسلمانوں کو دوزخ کی سزا بھی دی جائے گی۔ پھر قیامت کے دن جن کے مقدر میں شفاعت ہوگی ان کو نجات دی جائے گی۔ اور ہرکلمہ گو جس نے ایمان کی حالت میں انتقال کیا ہو وہ ضرور جنت میں جائے گا، خواہ گناہوں کی سزا کاٹ کر، اور پاک ہونے کے بعد کیوں نہ ہو۔ اور یہ بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔ قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ما من عبد قال لا إلہ إلاّ اللہ ثم مات علی ذلک إلا دخل الجنة (الحدیث) (بخاری و مسلم) وعن عبادة بن الصامت -رضي اللہ عنہ- قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من شھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأن محمداً عبدہ ورسولہ وأن عیسی عبد اللہ ورسولہ وابن أمتہ وکلمتہ ألقاھا إلی مریم وروح منہ والجنة والنار حق أدخلہ اللہ الجنة علی ما کان من العمل (بخاری ومسلم) وعن عثمان -رضي اللہ عنہ- قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من مات وھو یعلم أنہ لا إلہ إلا اللہ دخل الجنة. (رواہ مسلم)  


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند