• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 2030

    عنوان: میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں فتوی لیناچاہتاہوں ، کیا یہ حدیث جو لوگوں کی زبانی سنی ہے حدیث ہے بھی یا نہیں؟ اور اگر حدیث ہے تو کس درجہ میں ہے؟ حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے : ایک بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہاآئیں اور اپنے بچہ کو ساتھ لائیں اور آپ -صلی اللہ علیہ وسلم - سے کہا کہ اس بچہ کو شکر کھانے سے منع فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل آنا ، وہ دوسرے دن پھر آئیں آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے دوبارہ فرمایا کہ کل آنا، تیسرے دن جب وہ آئیں تو آ پ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے بچہ کو شکر کھانے سے منع فرمایا ، اس پر صحابیہ رضی اللہ عنہا نے وجہ دریافت کی کہ آپ نے پہلے دودن ان کو منع کیوں نہ فرمایا ؟ تو آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا کہ میں نے ان دنوں خود شکر کھارکھی تھی: اب اگر یہ واقعی صحیح اور مستند حدیث ہے تو کیا ہمارے لیے کسی کو تبلیغ کرنا مشکل نہیں کہ ہم تو بہت کمزور ہیں اور ہر کام درست تو نہیں کرسکتے؟

    سوال:

    میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں فتوی لیناچاہتاہوں ، کیا یہ حدیث جو لوگوں کی زبانی سنی ہے حدیث ہے بھی یا نہیں؟ اور اگر حدیث ہے تو کس درجہ میں ہے؟ حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے : ایک بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہاآئیں اور اپنے بچہ کو ساتھ لائیں اور آپ -صلی اللہ علیہ وسلم - سے کہا کہ اس بچہ کو شکر کھانے سے منع فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل آنا ، وہ دوسرے دن پھر آئیں آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے دوبارہ فرمایا کہ کل آنا، تیسرے دن جب وہ آئیں تو آ پ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے بچہ کو شکر کھانے سے منع فرمایا ، اس پر صحابیہ رضی اللہ عنہا نے وجہ دریافت کی کہ آپ نے پہلے دودن ان کو منع کیوں نہ فرمایا ؟ تو آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا کہ میں نے ان دنوں خود شکر کھارکھی تھی: اب اگر یہ واقعی صحیح اور مستند حدیث ہے تو کیا ہمارے لیے کسی کو تبلیغ کرنا مشکل نہیں کہ ہم تو بہت کمزور ہیں اور ہر کام درست تو نہیں کرسکتے؟

    جواب نمبر: 2030

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 788/ د= 759/ د

     

    سوال میں مذکور حدیث نظر سے نہیں گذری جو لوگ بیان کرتے ہیں ان سے کتاب کا پورا حوالہ معلوم کرکے لکھیں۔ دین کی بات مناسب طریقہ پر لوگوں کو پہنچانا نیک عمل ہے، پہنچانے والے کو اس پر ثواب ملتا ہے، وہ اگر خود عمل میں کوتاہ ہے تو کوتاہی کا گناہ اس کو ہوگا، لیکن ایسے شخص کے لیے دین کی صحیح بات جو اس نے مستند طریقہ سے حاصل کی ہے، بوقت ضرورت لوگوں کو پہنچادینا منع نہیں ہے جو مفہوم سوال میں ذکر گیا گیا ہے وہ غالباً کسی بزرگ کا مقولہ ہے، افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ خود عمل کرکے لوگوں کو تبلیغ کرے اس سے بات میں اثر زیادہ ہوتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند