• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 145788

    عنوان: غزوہ ہند کے بارے میں

    سوال: غزوہ ہند کے بارے میں کچھ معلومات دیں۔سچ بات ہے یا غلط بات ہے ؟آنے والے وقت میں ایسے کسی غزوہ کا ذکر احادیث میں ملتا ہے؟

    جواب نمبر: 145788

    بسم الله الرحمن الرحيم

     

    Fatwa ID: 062-053/Sd=2/1438
     
    اس سلسلے میں دارالعلوم کا ایک فتوی منسلک ہے، ملاحظہ فرمائیں۔

     

    محمد ثناؤ اللہ، آسنسول، [email protected] 145454       2/10/2016
     
    حدیث وسنت       4045  --11436/54-37
     
     
    براہ کرم ، حدیث غزوہ ہند کی مکمل تفصیلات بتائیں ۔ یہ غزوہ کہاں سے شروع ہوگا؟ کیا پاکستان اس غزوہ کا ایک حصہ ہوگا؟
     
     
    Fatwa ID: 047-000/37=20/1438
     
     
    اس سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں ان میں صرف غزوة الہند کا ذکر ہے کسی زمانہ کی تخصیص نہیں ہے، کہ کس زمانہ میں پیش آئے گا، اسی طرح اس قسم کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ غزوہ کہاں سے شروع ہوگا۔
     
    ان روایات میں وارد غزوہ کا مصداق کونسا غزوہ ہے اس بارے میں تین آراء پائی جاتی ہیں:
     
    (۱) اسلام کے ابتدائی اور وسطی دور میں جو غزوات پائے گئے جن کی بنا پر ہندوستان ایک عرصہ تک دارالاسلام بنا رہا اور وہاں اسلامی حکومت قائم رہی، یہ غزوات الہند کا مصداق ہیں جن میں بالخصوص محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کی معرکہ آرائی قابل ذکر ہے۔
     
    (۲) بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ حدیث میں جو ہند کا ذکر آیا ہے اس سے خاص ہندوستان مراد نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی طرف کے علاقے مراد ہیں جس میں خاص طور پر بصرہ اور اس کے اطراف کا علاقہ ہے اس کی تائید بعض آثار صحابہ سے ہوتی ہے جو یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگ ہند سے بصرہ مراد لیتے ہیں اس تاویل کے اعتبار سے غزوہ ہند کے سلسلہ کی روایات کا تعلق ابتدائی زمانہ میں جو فارس سے جنگیں ہوئیں ان سے ہے۔
     
    (۳) تیسری رائے یہ ہے کہ ابھی ان روایات کا مصداق پیش نہیں آیا بلکہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اس معرکہ آرائی کا تحقق ہوگا اس رائے کے قائلین ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو علامہ بن نعیم بن حماد نے اپنی کتاب ”الفتن“ میں پیش کی ہیں، جن میں یہ ذکر ہے کہ ”ایک جماعت ہندوستان میں جہاد کرے گی اور اس کو فتح نصیب ہوگی اور جب وہ مال غنیمت لے کر واپس لوٹیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ملک شام میں نزول ہوچکا ہوگا“۔ (الفتن، ص۴۰۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند