• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 1342

    عنوان: صحیح مسلم کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ بروز محشر امت مسلمہ پریشان ہوگی اور اپنی مشکلات لے کر چار انبیاء کے پاس جائے گی لیکن ہر نبی اپنی لغزش کو یاد کرکے شفاعت سے معذرت کردیں گے سوائے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ آخر ان چار انبیاء سے کیا لغزش ہوئی تھی؟

    سوال: صحیح مسلم کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ بروز محشر امت مسلمہ پریشان ہوگی اور اپنی مشکلات لے کر چار انبیاء کے پاس جائے گی لیکن ہر نبی اپنی لغزش کو یاد کرکے شفاعت سے معذرت کردیں گے سوائے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ آخر ان چار انبیاء سے کیا لغزش ہوئی تھی؟

    جواب نمبر: 1342

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  563/ن = 552/ن)

     

    آپ نے جس بخاری و مسلم کی حدیث کا حوالہ دیا ہے اسی میں ان وجوہات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے دیگر انبیاء شفاعت سے معذرت کردیں گے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام شجر ممنوعہ کے کھانے کو بیان کریں گے۔ اور حضرت نوح علیہ السلام اس کو بیان فرمائیں گے کہ میں نے اپنے کافر بیٹے کے لیے ڈوبنے اور غرق ہونے سے حفاظت کی دعا کی تھی۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی تین تعریضات کا ذکر فرمائیں گے: (الف) قولہ: إني سقیم (ب) وقولہ: قال: بل فعلہ کبیرھم (ج) وقولہ في سارة: إنھا أختي، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ میرے ہاتھ سے ایک شخص کا گھونسا مارنے سے بلاقصد قتل ہوگیا تھا۔ قال تعالیٰ: فَوَکَزَہُ مُوْسی فَقَضَی عَلَیْہِ قَالَ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ (الآیة) پوری تفصیل مرقاة، فتح الباری اور عمدة القاری وغیرہ کتابوں میں اس حدیث کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند