• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 1047

    عنوان:

    یہاں پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ اپنے نفس کے ساتھ جہاد افضل جہاد ہے اور یہ احادیث میں بھی آیا ہے۔ مگر بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ من گھڑت حدیث ہے۔ کیا اس حدیث کا انکار کرنے والا کافر کہلائے گا اور اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

    سوال:

    یہاں پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ اپنے نفس کے ساتھ جہاد افضل جہاد ہے اور یہ احادیث میں بھی آیا ہے۔ مگر بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ من گھڑت حدیث ہے۔ کیا اس حدیث کا انکار کرنے والا کافر کہلائے گا اور اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟

    جواب نمبر: 1047

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  483/ن = 471/ن)

     

    یہ حدیث ممکن ہے کہ الفاظ کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی نہ ہو؛ لیکن معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے، کیونکہ ترمذی میں ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المجاھد من جاھد نفسہ (رواہ الترمذي) اوراس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ و افضل درجہ کامجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ وأخرجہ الدیلمي عن جابر-رضي اللہ عنہ- قال: قدم علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم قوم غزاة فقال: قدمتم خیر مقدم قدمتم من الجھاد الأصغر إلی الجھاد الأکبر مجاھدة العبد ھواہ (کنز العمال) لہٰذا حدیث عن أبي ذر -رضي اللہ عنہ- قال: قلت: یا رسول اللہ! أيّ الجھاد أفضل؟ قال: أن یجاھد الرجل نفسہ وھواہ. (ابن النجار) کنز العمّال: 4/260، ط مکة المکرمة) کو من گھڑت کہہ کر اس کا انکار کرنا درست نہیں؛ لیکن چونکہ منکر اس حدیث کو موضوع سمجھ کر اس کا انکار کررہا ہے لہٰذا وہ کافر نہ ہوگا اور نہ اس کا نکاح ٹوٹے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند