• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 609619

    عنوان:

    مسلمان ہوٹلوں میں كھانے كے لیے حلال سرٹیفكیٹ

    سوال:

    کیا مسلمانوں کے ہوٹلوں میں کھانے کے لیے حسنِ ظن کافی ہے؟ یا حلال کا سرٹیفکیٹ ہونا بھی ضروری ہے؟ اور کیا غیر مسلموں کے ہوٹلوں میں فقط حلال کا سرٹیفکیٹ ہونا ثبوت ِحلال کے لیے کافی ہے؟

    جواب نمبر: 609619

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 601-308/TB-Mulhaqa=7/1443

     مسلمان ہوٹل میں كھانا كھانے كے لیے ’’حلال‘‘سرٹیفكیٹ كا ہونا ضروری نہیں ہے‏؛ البتہ اگر اس میں یورپ وامریكہ وغیرہ سے درآمد شدہ   ڈبہ بند گوشت استعمال ہوتا ہوتو اس كے كھانے سے بہر حال احتراز چاہیے اگرچہ اس پر ’’حلال‘‘ كی لیبل لگی ہوئی ہو۔رہے غیر مسلموں كے ہوٹل تواگر اس كا منتظم یہ كہے كہ ہمارے یہاں گوشت فلاں مسلمان قصائی كے یہاں سے آتا ہے’ تب تو اس كے یہاں گوشت كھانے كی گنجائش ہے بہ شرطے كہ برتنوں كے پاك ہونے كا اطمینان ہو‏، ایسا نہ ہو كہ جن برتنوں میں حرام گوشت وغیرہ پكایا یا ركھاجاتا ہو‏، ان ہی میں حلال گوشت بھی پكایا جاتا ہو‏، اگر مسلمان قصائی كے یہاں سے خریداری كی بات نہ كہے تو غیر مسلم ہوٹل میں گوشت كھانے سے بہر صورت   احتراز لازم ہے ، اگرچہ ان كے پاس ’’حلال‘‘سرٹیفكیٹ ہو؛ كیوں كہ حلال سرٹیفكیٹ كا ہونا كسی چیز كے فی الواقع حلال ہونے كی یقینی دلیل نہیں ہے‏۔یورپ وامریكہ وغیرہ سے درآمدہ شدہ گوشت كے سلسلے میں تو سعودی عرب كے مفتیان اور علما كی ایك كمیٹی باضابطہ تحقیق كے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہےکہ پیكٹ پر طبع شدہ عبارت’’حلال‘‘ یا ’’اسلامی طریقے پر ذبح كیا گیا ہے‘‘ وغیرہ بالكل قابل اعتماد نہیں ہے‏، تفصیل كے لیے دیكھیں: فقہی مقالات(4/291- 319، مطبوعہ: كراچی)

    (ويقبل قول كافر) ولو مجوسيا (قال اشتريت اللحم من كتابي فيحل أو قال) اشتريته (من مجوسي فيحرم)[الدر المختار](قوله أو قال اشتريته من مجوسي فيحرم) ظاهره أن الحرمة تثبت بمجرد ذلك، وإن لم يقل ذبيحة مجوسي، وعبارة الجامع الصغير، وإن كان غير ذلك لم يسعه أن يأكل منه، قال في الهداية معناه إذا قال كان ذبيحة غير الكتابي والمسلم اهـ تأمل. وفي التتارخانية قبيل الأضحية عن جامع الجوامع لأبي يوسف من اشترى لحما فعلم أنه مجوسي وأراد الرد فقال ذبحه مسلم يكره أكله اهـ ومفاده أن مجرد كون البائع مجوسيا يثبت الحرمة، فإنه بعد إخباره بالحل بقوله ذبحه مسلم كره أكله فكيف بدونه تأمل[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 9/ 497]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند