• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 607807

    عنوان:

    پیٹ بھر کھانے اور پلیٹ صاف کرنے سے متعلق

    سوال:

    وقتاً فوقتاً تبلیغی احباب کے ساتھ جماعت میں جانا ہوتا ہے جب کھانے کی نشست ہوتی ہے تو وہ حضرات پلیٹ صاف کرنے کی سنت پر بہت زور دیتے ہیں جب کہ پیٹ بھر کر کھانا بھی خلاف سنت ہے اب ایسی صورت جب پیش آجاے کہ یک طرف پلیٹ صاف کرنا ہے جبکہ دوسری طرف کوئی کھانے والا بھی نہیں ہے ۔ دوسری طرف پیٹ بھی بھر چکا ہے اس کشمکش کے وقت۔ سنت نبوی کیا ہے وضاحت فرمائیں جزاک اللہ

    جواب نمبر: 607807

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:237-119T/B-Mulhaqa=5/1443

     پیٹ بھر کھانا کھانا فی نفسہ مباح ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ پیٹ کا کچھ حصہ خالی چھوڑ دے ؛ اگر کھانا بچ رہا ہو اور ضیاع سے بچانے کے لیے کوئی پیٹ بھر کر کھالے تو اس میں شرعا کچھ حرج نہیں ہے ، یہ خلاف سنت نہیں ہلائے گا؛ کیوں کہ کھانے کا احترام اور اسے برباد ہونے سے بچانا بھی شریعت کا ایک اہم حکم ہے ؛ بلکہ یہ پیٹ بھر کر کھانا نہ کھانے کی فضیلت سے ، زیادہ افضل ہے ۔اگر پیٹ بھرچکا ہو ،مزید کھانے سے آدمی بیمار ہوسکتا ہو تو پھر محض پلیٹ صاف کرنے کی غرض سے مزید نہ کھانا چاہیے ؛ بلکہ ایسی صورت میں بچاہوا کھانا کسی جانور کو کھلادینا چاہیے ۔واضح رہے کہ ابتدا میں ہی کھانا اتنا ہی لینا چاہیے جتنا آدمی کھاسکے ، اگر ایسا کیا جائے گا تو مذکور فی السوال صورت بہت کم پیش آئے گی ۔

    (الأکل) للغذاء والشرب للعطش...(فرض) یثاب علیہ بحکم الحدیث، ولکن (مقدار ما یدفع) الإنسان (الہلاک عن نفسہ).....(ومباح إلی الشبع لتزید قوتہ، وحرام) عبر فی الخانیة بیکرہ (وہو ما فوقہ) أی الشبع وہو أکل طعام غلب علی ظنہ أنہ أفسد معدتہ، وکذا فی الشرب قہستانی (إلا أن یقصد قوة صوم الغد أو لئلا یستحی ضیفہ) أو نحو ذلک إلخ(الدر المختار) (قولہ أو لئلا یستحی ضیفہ) أی الحاضر معہ الآتی بعدما أکل قدر حاجتہ قہستانی (قولہ أو نحو ذلک) کما إذا أکل أکثر من حاجتہ لیتقایأہ قال الحسن لا بأس بہ قال: رأیت أنس بن مالک - رضی اللہ عنہ - یأکل ألوانا من الطعام ویکثر ثم یتقایأ وینفعہ ذلک خانیة.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 9/ 489، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند