• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 33457

    عنوان: ایک دوسرے کا جھوٹا کھانے پینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    سوال: ایک دوسرے کا جھوٹا کھانے پینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا گلاس سے ایک گھونٹ پانی پینے کے بعد اس پانی کو جھوٹا مانا جائے گا؟کیا امرود کو دانت سے کاٹ کر کھایا گیا تو صرف ایک طرف سے کاٹ پائے گا تو کیا اس امرود کو جھوٹا مانا جائے گا؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں کہ اس طرح کے معاملوں میں کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 33457

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1246=1246-8/1432 گلاس سے ایک گھونٹ پانی پئے یا زیادہ پئے بقیہ پانی جھوٹا کہلائے گا اور امرود کو صرف ایک طرف سے منھ لگاکر کھایا گیا تو جس جگہ لعاب دہن لگا ہے، اس کو جھوٹا کہیں گے؛ لیکن عرف میں پورے امرود کو جھوٹا سمجھا جاتا ہے اور انسان کا جھوٹا پاک ہے، فسوٴر آدمي مطلقاً ولو جنبا أو کافرًا․․․ طاہر الفم ․․․ طاہر (درمختار)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند