• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 28017

    عنوان: حلال جانوروں جیسے گائے، بکرے وغیرہ کا لعاب پاک ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر کپڑوں پر لگ جائے تو کیا ان کپڑوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ (۲) اگر پرندوں کی بیٹ کپڑوں پر گر جائے تو کیا تھوڑی سی بیٹ سے بھی کپڑے ناپاک ہوجائیں گے یا کپڑے ناپاک ہونے کا دارومدار بیٹ کے پھیلاو یا اسکی مقدار پہ ہوگا ؟

    سوال: حلال جانوروں جیسے گائے، بکرے وغیرہ کا لعاب پاک ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر کپڑوں پر لگ جائے تو کیا ان کپڑوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ (۲) اگر پرندوں کی بیٹ کپڑوں پر گر جائے تو کیا تھوڑی سی بیٹ سے بھی کپڑے ناپاک ہوجائیں گے یا کپڑے ناپاک ہونے کا دارومدار بیٹ کے پھیلاو یا اسکی مقدار پہ ہوگا ؟

    جواب نمبر: 28017

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 2021=428-1/1432

    (۱) حلال جانور جیسے گائے بکرے وغیرہ کا لعاب پاک ہے، اگر کوئی نجس چیز زبان یا منھ پر نہ لگی ہو تو صرف ان کا لعاب کپڑے وغیرہ میں لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگابغیر دھوئے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
    (۲) مرغی بطخ مرغابی کے سوا حلال پرندوں کی بیٹ پاک ہے، جیسے کبوتر گوریا وغیرہ۔ (مرغی بطخ مرغابی کی بیٹ نجس ہے، نجاست غلیظہ جس کا حکم یہ کہ وزن میں ساڑھے چار ماشہ تقریباً 4 گرام کے برابر اگر لگی رہی اور نماز پڑھ لیا تو نماز ہوگئی اتنی مقدار تک لگنا معاف ہے اور اس سے زاید لگنے کی صورت میں دھونا ضروری ہے، بغیر دھوئے نماز صحیح نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند