• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 2283

    عنوان:

    اس حدیث کے سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد نمک چکھنا سنت ہے؟ ایک مولانا کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جس میں کھانے سے پہلے اور بعد میں نمک کھانے کا ذکر ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سنت نہیں ہے۔آپ سے درخواست ہے کہ نمک چکھنے کے سلسلے میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس سنت کا ذکر کس کتاب میں ہے ، اس کا راوی کون ہے وغیرہ؟ تفصیلی جواب کے لیے شکر گزار ہوں گا۔

    سوال:

    اس حدیث کے سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد نمک چکھنا سنت ہے؟ ایک مولانا کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جس میں کھانے سے پہلے اور بعد میں نمک کھانے کا ذکر ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سنت نہیں ہے۔آپ سے درخواست ہے کہ نمک چکھنے کے سلسلے میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس سنت کا ذکر کس کتاب میں ہے ، اس کا راوی کون ہے وغیرہ؟ تفصیلی جواب کے لیے شکر گزار ہوں گا۔

    جواب نمبر: 2283

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 889/ب=832/ب

     

    نمک سے کھانا شروع اور ختم کرنے کے بارے میں کتبِ حدیث میں ایک حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؛ لیکن یہ حدیث صحیح نہیں۔ ابن القیم جوزی -رحمہ اللہ- نے اس حدیث کوموضوعات میں شمار کیا ہے۔ احیاء العلوم کے شارح علامہ زبیدی نے اس حدیث کو اپنی شرح میں نقل کیا ہے روي عن رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم أنہ قال: یا علي! ابدأ طعامک بالملح واختم بالملح فإن الملح شفاء من سبعین داء الخ حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور پھر علت ذکر کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں والمتھم عبد اللہ بن أحمد الطائي و أبوہ فإنھما یرویان نسخة من أھل البیت کلھا باطلة نیز علامہ سیوطی نے اس حدیث کو (اللآلي الموضوعة: ص۵۳۵)پر ذکر کیا ہے، اور پھر حدیث پر وہی کلام کیا ہے جو زبیدی کے حوالے سے ابھی نقل کیا گیا۔ مذکورہ بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ البتہ اس مضمون کی ایک دوسری حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے من ابتدأ غذاء ہ بالملح أذہب اللہ عنہ سبعین داء علامہ زبیدی نے بیہقی کے حوالے سے اس حدیث کو نقل کیا اور اس پر کوئی کلام نہیں کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث مذکور قابلِ اعتبار ہے۔ بنا بریں نمک سے کھانے کے آغاز و افتتاح کو منجملہ آداب طعام کے شمار کرنا صحیح ہے۔ البتہ اس عمل کو سنت نہیں کہاجائے گا۔ اور جن فقہا نے اس کو سنت کہا ہے اس سے ان کی مراد ادبِ طعام ہے نہ یہ کہ یہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (امداد الفتاویٰ: ج۴ ص۱۱۲، ۱۱۳ ملخصا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند