• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 2033

    عنوان:

    کیا ہاتھ سے ذبح شدہ چکن کو اس کی آلودگی کو صا ف کیے بغیراس کے پروں کو دورکرنے کے لیے ۶۰یا ۶۵ڈگری گرم پانی میں ۳۰یا ۴۰ سکنڈ کے لیے ڈال دیا جاتاہے تو کیا اس کا کھانا جائزہے ؟ اگر نہیں تو!گرم پانی کا زیادہ سے زیادہ ٹمپریچر کیا ہونا چاہئے جس میں ذبح شدہ چکن کو ڈالا جائے اوریہ جائز ہو؟ کیا جس پانی میں چکن کو ڈالا جاتاہے تو اس پانی کو ہرباربدل دیا جاناچاہئے یا بار بار اسے استعمال کرسکتے ہیں؟

    سوال:

    کیا ہاتھ سے ذبح شدہ چکن کو اس کی آلودگی کو صا ف کیے بغیراس کے پروں کو دورکرنے کے لیے ۶۰یا ۶۵ڈگری گرم پانی میں ۳۰یا ۴۰ سکنڈ کے لیے ڈال دیا جاتاہے تو کیا اس کا کھانا جائزہے ؟ اگر نہیں تو!گرم پانی کا زیادہ سے زیادہ ٹمپریچر کیا ہونا چاہئے جس میں ذبح شدہ چکن کو ڈالا جائے اوریہ جائز ہو؟ کیا جس پانی میں چکن کو ڈالا جاتاہے تو اس پانی کو ہرباربدل دیا جاناچاہئے یا بار بار اسے استعمال کرسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 2033

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 829/ د= 792/ د

     

    ذبح شدہ مرغی بدونِ آلائش نکالے اگر کھولتے ہوئے پانی میں ڈالدی گئی اور اتنی دیر اس میں پڑی رہی کہ پانی گوشت میں سرایت کرگیا تو اس مرغی کا گوشت نجس ہوگیا، کسی طرح بھی پاک نہیں ہوگا، یعنی پاک پانی سے دھونے یا پاک پانی میں کھولانے سے بھی پاک نہیں ہوگا: قال في الطحطاوي لو ألقیت دجاجة حال غلیان الماء قبل أن یشق بطنھا لتنشف إن وصل الماء إلی حد الغلیان ومکثت فیہ في ذلک زمانا یقع في مثلہ التشرب والدخول في باطن اللحم لا تطھر أبدا (ج۱ ص۱۶۱)

    اور اگر پانی کھولنے کی حد تک گرم نہیں ہے اور ذبح شدہ مرغی صرف اتنی دیر اس میں ڈالی گئی کہ پانی کی حرارت کھال تک پہنچ سکے تو تین مرتبہ دھونے سے مرغی کا گوشت پاک ہوجائے گا اور اس کا کھانا جائز ہوگا۔

    (۲) پانی کو ہرمرتبہ بدل دینا ضروری ہے کیونکہ ایک مرتبہ ذبیحہ اس میں ڈالنے سے وہ نجس ہوگیا۔ وفي الطحطاوي وإن لم یصل الماء إلی حد الغلیان أو لم تترک فیہ إلا مقدار ما تصل الحرارة إلی سطح الجلد تطھر بالغسل ثلاثا (ج۱ ص۱۶۱، طحطاوي علی المراقي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند