• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 1804

    عنوان:

    زید کہتاہے کہ چرس اور افیوم پر وہ حکم نہیں لگتا جو شراب پر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شراب کے بارے میں نص قرآن ہے جبکہ چرس اور افیوم کے بارے میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے زید چرس اور افیوم کو جائز قراردیتاہے۔زیدکا یہ خیال کیسا ہے ؟ اور اس کے بارے میں شرعی حکم ہے؟

    سوال:

    زید کہتاہے کہ چرس اور افیوم پر وہ حکم نہیں لگتا جو شراب پر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شراب کے بارے میں نص قرآن ہے جبکہ چرس اور افیوم کے بارے میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے زید چرس اور افیوم کو جائز قراردیتاہے۔زیدکا یہ خیال کیسا ہے ؟ اور اس کے بارے میں شرعی حکم ہے؟

    جواب نمبر: 1804

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 664/ ن= 660/ ن

     

    چرس اور افیون کااستعمال بھی حرام ہے اور ان کی حرمت صحیح احادیث سے ثابت ہوتی ہے اگرچہ قرآن کریم میں ان کی حرمت مذکور نہیں ہے اس وجہ سے ان کی حرمت شراب کی حرمت کے درجہ کی نہیں ہے ویحرم أکل البنج والحشیشة والأفیون لکن دون حرمة الخمر (در مختار: ۱۰/ ۴۱، ط زکریا دیوبند) عن ابن عمر رضي اللہ عنہ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: کل مسکر حرام (رواہ الجامعة إلا البخاري وابن ماجة) وفي لفظ لہ: کل مسکر خمر وکل خمر حرام (رواہ مسلم والدارقطني) (إعلاء السنن: ۱۸/ ۲۸، ط پاکستان) لہٰذا زید کا خیالِ مذکور بالکل غلط ہے۔ اس کو اپنے اس خیال سے رجوع کرنا ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند