• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 608201

    عنوان:

    مفتی سے دلیل کا مطالبہ کرنا

    سوال:

    حضرت کیا کسی عالم یا عام آدمی کو مسئلہ جواب دینے میں کوئی فرق ہے ؟ مثلا اگر کوئی عام آدمی کوئی مسئلہ معلوم کرے تو کیا اسے دلیل اور حوالہ دینا ضروری ہوگا یا نہیں؟ اور اگر کوئی عالم کسی دوسرے عالم سے اس مسئلہ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ معلوم کرے اور جواب مدلل مانگے ،تو کیا اس میں کوئی برائی ہے ؟ جو موجب ہیں وہ جواب تو دے رہیں ہو پر دلیل نہیں دے رہے دلیل کے مطالبہ پر کہتے ہیں کہ آپ کو اس میں کیا مانع ہے جو آپ دلیل مانگ رہے ہیں۔

    جواب نمبر: 608201

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:593-554/L=6/1443

     مفتی پر دلیل لکھنا لازم وضروری نہیں بالخصوص جبکہ سائل عالم نہ ہو؛لیکن اگر مستفتی کوئی عالم ہو اور اس کی طرف سے دلیل کا مطالبہ ہو تو مفتی کو چاہئے کہ مسئلہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دلیل بھی بیان کردے تاکہ لوگوں کی نظر میں اس کی بات باوزن ہو اور خود اس کے علم ومطالعہ میں جلا پیدا ہوسکے۔

    (ذکر الفتوی مع دلیلہا أولی) الفائدة الثالثة والستون: عاب بعض الناس ذکر الاستدلال فی الفتوی، وہذا العیب أولی بالعیب، بل جمال الفتوی وروحہا ہو الدلیل. (إعلام الموقعین عن رب العالمین 4/ 200) وفی الطحطاوی علی الدر: وینبغی للمفتی أن یذکر دلیل الحکم ومأخذہ ما أمکنہ من ذلک.( حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:1/49)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند